نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 38 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 38

سوادت نشینؤا بھی چاک شیت اور اس کے ضروری الفاظ کے معنے یہ ہیں۔دو عمدہ پروں والے(یہ ایک خدا ہے اور دوسرا روح ہیں)ملے دوستانہ طور۔ایک جیسے۔ایک درخت پر۔براجے۔الگ الگ۔ستیارتھ میں صفحہ ۲۷۵میں اس منتر کو لکھا ہے اور رگوید منڈل۱۔سکت ۱۶۴منتر۲۰کا حوالہ دیا ہے۔لفظی ترجمہ کسی مصلحت سے نہیں کیا گیا مگر یہ تو لکھا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے پرمیشور اور جیو دونوں ذی شعور اور جن میں پرورش وغیرہ صفات یکساں ہیں(یکساں کا لفظ قابل غور ہے الواحد کا مخالف ہے)اورجن میں باہم تعلق ہے (یہاں محیط محاط کا لفظ بڑھایا ہے)جو باہم مانوس اور قدیم اور ازلی ہیں۔ویسے ہی برکش درخت مشتمل بر جڑیں بصورت ازلیہ علت اور بصورت شاخیں معلول تیسری ازلی شے ہے۔ان تینوں کے اوصاف عادات اور افعال ازلی ہیں۔پھر لکھا ہے جیو بھلائی برائی کا پھل پاتاہے۔دوسرا پرماتما پھل نہیں بھوگتا اور چاروں طرف جلوہ گرہے۔ارواح۔خدا اور مادہ تینوں اپنی ماہیت سے تینوں جدا اور ازلی ہیں۔میں کہتا ہوں یہی ترمورتی ٹرنٹی باپ بیٹا اور روح القدس ازلی کے لگ بھگ مسئلہ ہے گو مسیحی لوگ ان تینوں میں وحدت ذاتی مان کر وحدہ لا شریک کے بھی معتقد ہیں مگر آریہ اب وحدہ لاشریک انوپیم نہیں کہہ سکتے کیونکہ ان کے نزدیک لاکھوں لاکھ پروں والے اس کے شریک چیلوں کی طرح ایک پیپل یا درخت پر جو ازلی ہے ازل سے رہتے ہیں۔ہم مانتے ہیں کہ یہاں کوئی روپا النکار کی گھڑت کام آ سکتی ہے جیسے سکت پرش میں النکار سے کام لیا گیاہے مگر ہم نے انصاف طلبی کے لئے کتاب لکھی ہے۔ہم نے اسے ٹرنٹی کے ساتھ تشبیہ دینے میں ممکن ہے کسی کے نزدیک قصور کیا ہو کیونکہ صفحہ۲۸۳ستیارتھ میں لکھا ہے کہ پرمیشور پرکرتی۔کال۔اکاش۔جیئو اور ان کے گن۔کرم سبہا وخواص عادات اور افعال بھی سب ازلی ہیں۔اس حساب سے کروڑ در کڑور ازلی غیر مخلوق اشیاء ہو گئے اور تین ہی ازلی نہ رہے۔پس خدا آریہ کے نزدیک تمام صفات میں ایک نہ رہا۔لطیفہ۔ہم پر تو فرشتوں کے پروں کا اعتراض ہے۔دیکھو سوال نمبر ۸۶۔اور اپنے اندر روح بھی