نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 37
اور اس مخلوق کا ذکر کیا جس میں عناصر و ارکان کو اپناظاہر قدرت بنایا مثلاً احراق آگ سے۔پیاس بجھانا پانی سے وغیرہ وغیرہ۔پھر مثلاًپیدائش انسان اول پر بڑا بسط فرمایا ہے جیسے فرمایا:انسان کو ہم نے ان اشیاء سے بنایا۔۱؎۔من تراب۔من طین۔من حماء مسنون۔من طین لازب۔من صلصال۔من حماء۔من صلصال کالفخار اور آخر و نفخت فیہ من روحی تک بیان کر دیا ہے یہ ایشری سرشٹی میںانسان کا بیان ہوا اور دیکھو کس تفصیل سے ہوا۔میتہنی شرشٹی انسانی پر فرمایا۔۲؎ من سلالۃ۔من طین۔من نطفۃ۔علقۃ۔مضغۃ۔عظام۔کسونا العظام لحماً۔ثم انشأناہ خلقا اخر فتبارک اللّٰہ اور خلقت کے متعلق یہ بھی ارشاد ہے۔ان کے اتقان حکمتوں کے لحاظ سے توان میں یہ حال ہے۔ما تری فی خلق الرحمن من تفاوت اوربااعتبار صفات کے ان کی یہ حالت ہے وقد خلقکم اطوارًا کیونکہ اصل میٹر و طین و مٹی میں باہم بڑے بڑے تفاوت تھے۔پھر اس پر علاوہ غذاؤں، ہواؤں، روشنیوں، قرب و بُعد پانی کے باعث۔جبال و بحار کے سبب۔ماں باپ کی نیکی و بدی، بیماری و صحت، رنج و غضب۔ماں اور اس کی ان غذاؤں کے باعث جو وہ حالت حمل و دودھ پلانے میں کھاتی ہے۔صحبت۔تادیب۔تلقین۔مذاہب۔مطالعہ کتب اور لباس۔خوراک وغیرہ کے باعث اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔یہ نکتہ اختلاف کا تناسخ کے غلط مسئلہ کو باطل کر رہاہے۔البتہ اسلام اور قرآن ایسی پیدائش کو نہیں مان سکتا جس کے ماننے کا مدار صرف ایسے شلوک یامنتر ہوں جن پر شواہد قدرت وعقل وفطرت کی گواہی نہیں۔مثلاً دُوَا۔سپرنا۔سَیَجَا۔سَکھایا۔سَمَانم۔بِرِکھشم پرکھی سوجاتی۔تیوارنیّہ پسپلّم۔؎ مٹی سے۔پانی ملی مٹی سے۔متغیرگارے سے پھر معتدل سے پھر بولنے والے پھر پکے ہوئے بولنے والے مادے سے۔۲؎ خلاصہ۔پانی ملا۔تھوڑے سے مادہ سے ہو جونک یا خون کی طرح تھاپھر اتنا بڑا ہوا جتنا چبانے کا لقمہ یا اس جیسا پھر بڑھا او ر اس پر گوشت چڑھا پھر بولتا چالتا بچہ بن گیا۔