نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 30 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 30

حظ اٹھاؤ۔(۲)حسین عورتوں سے انند،مقصد انسانی ہے۔(۵۲۷/۵۲۸ستیارتھ۔ماں کوبھی سماگم۱؎ کئے بغیر نہ چھوڑنا چاہیے۔(ستیارتھ ۳۸۰) (۳) اگنی ہوتر وید وغیرہ روزی کا ذریعہ ہے۔(کیا ممبران سماج جن کے قبضہ میں روپیہ ہے وہ مخاطب ہیں) ستیارتھ ۵۳۰۔(۴) وید کے بنانے والے بھانڈ۔دھورت (مکار) نشاچر۔راکھش (خونخوار ظالم) ہیں ستیارتھ۵۳۲۔مہیدہر وغیرہ شارحان وید۔بھانڈ۔دھورت۔نشاچر تھے۔عورت سے گھوڑے کا … پکڑ واکر اس سے صحبت کرانا۔شراب۔زنا وغیرہ وام مارگیوں نے نکالے۔۵۳۳ستیارتھ بھومکا کے صفحہ ۲۰۸میں زیادہ تشریح ہے۔ایشور کی مذمت۔غیروں سے دشمنی میں سب ناستک جین اور بدھ سب ایک ہیں۔آنکھ۔کان۔ناک۔زبان اور جلد۔زبان۔ہاتھ۔پاؤں۔گدا(پاخانہ کی جگہ) لنگ (عضو خاص)من اور عقل با۱۲رہ ان کے معبود ہیں۔کوئی کہتا ہے پانچ ازلی ہیں۔کوئی کہتا ہے دو ازلی ہیں۔ماتنگی ماں سے زنا کرنے والے ہیں۔تمہارے کان پھٹے جوگی اور کتنے سنیاسی۔گوسائیں اور کل پچاری کیسے ہیں۔اگر کہو کہ آریہ لوگوں میں ایسے بھی ہیں مگر سب بُرے نہیں اور مسلمان سب بُرے ہیں۔تو بتاؤ ستیارتھ کے صفحہ ۵۶۶سے ۵۸۰تک یہ کیسے فقرہ ہیںجن میں جَین وغیرہ کو مخاطب کیاہے۔ان کی دہرم کی کتابیں کہاں تک مذمت سے بھری ہیں اپنے لئے کیا بُرا مانا ہے اور ستیارتھ کے ۱۴سملاس ستیارتھ دہرم کی کتاب میں مسلمانوں کو وہ گالیاں دیں کہ الامان! اور آریہ مسافر نے تو بھٹیاریوں کے بھی کان کترے ہیں۔اب رب کرے کہ آپ کی کتاب خاتمہ سبّ و شتم ہو۔آمین یا رب العالمین۔۔صحبت۔جماع ف ضرور دیکھو