نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 290 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 290

کرنا (اقرب)یہ لفظ سلم سے نکلا ہے جس کے معنی صلح وآتشی کے ہیں۔اس کا مادہ السلام اور السلامۃ بھی کہا گیا ہے۔جس کے معنی ہیں ہر قسم کے الزاموں سے بری ہونا۔عافیت کی زندگی بسر کرنا ،باہمی صلح سے رہنا ،جنگ نہ کرنا ،عمدہ عزت وپیار کے الفاظ سے ایک دوسرے کے ساتھ سے پیش آنا جناب الٰہی کے حضور خشوع و انکسار سے رہنا، نبی کریم ﷺ جو کچھ لائے ہیں سب کا کاربند ہونا (لسان)کامل اخلاص عبادت میں اختیار کرنا (مجمع البحرین) خلاصہ معانی فرمانبرداری ،صلح ، سلامت روی ،پاک وبے عیب زندگی بسر کرنا ،بغاوت سے بچنا ،عبادت میں شرک سے بچنا ،کامل انسان اور صاحب خلق عظیم کا اتباع کرنا۔ترک اسلام کے معنی ہوئے شریر ،سرکش ،جنگجو،عیب دار، باغی اور مشرک ہونا۔کامل اور خلق عظیم والے کی مخالفت کرنا۔ببین کہ از کہ بریدی وبا کہ پیوستی۔ہمارے ہادی نے فرمایا ہے المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ یعنی مسلم وہ ہے کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلم بچے رہیں۔اب کیا اس میں کوئی شک ہے کہ تو اور تیرامہان گرو یقیناتارکِ اسلام ہو۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ دیانند نے ستیارتھ پرکاش کا خاتمہ ترک اسلام پر کیا۔کوئی کتاب مسلمانوں کی طرف سے آریہ کے مقابلے پر ستیارتھ سے پہلے نہیں لکھی گئی۔بت پرستوں کے بالمقابل کتابیں تصنیف ہوئیں ان کے اسباب ہم علیحدہ بتاسکتے ہیں اور وہ خود آریہ سماج کے مدمقابل ہیں۔ستیارتھ والے نے خود ان کی مخالفت بہت کی ہے۔دیانندیوں کا مقابلہ اسلامیوں کی طرف سے ابتداء ً نہیں ہوا۔دیانند نے اسلام کی کتاب کو اسلام کے رسول کو اسلام کے خدا کو دل کھول کرگالیاں دیں جیسے ستیارتھ کے ۱۴سملاس سے ظاہر ہے اور اسی پر اپنا اور اپنی کتاب کے کمالات کا خاتمہ کیا ہے۔بعض احمق اور نادان لوگوں نے مجھے کہا کہ ہندو مذہب کا مقابلہ ابتداء ً اسلام نے کیا۔میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ ہندو ہیں۔اس مقابلہ میں بھگ ولنگ کی پرستش پر اعتراض تھا۔کیا آپ ا س کے پوجاری ہیں اس پر وہ حیران سے رہ گئے۔ایک اور تھے جنہوں نے کہا کہ مرزا غلام احمدصاحب نے آریہ سے گالیاں دلائیں۔میں نے کہاآپ نے ستیارتھ پرکاش کا آخر پڑھاہے۔اس میں کیا