نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 265
چوتھا امرقابل بیان یہ ہے کہ وسائل ووسائط کو تمام دنیا کے مذاہب ضروری تسلیم کرتے ہیں کافر ومومن۔جاہل و عالم۔بت پرست و خدا پرست۔سو فسطائی دہریہ جناب الٰہی کا معتقد غرض سب کے سب وسائل ووسائط کو عملاً مانتے ہیں۔کون ہے جو بھوک کے وقت کھانا۔پیاس کے وقت پینا۔سردی کے وقت کوئی دوائی یا گرمی حاصل کرنے کاذریعہ اختیار نہیں کرتا۔مقام مطلوب پرجلدی پہنچنے کے لئے میل ٹرین یا اسٹیمرکو پسند نہیں کرتا۔اگر مومن صرف حضرت حق سبحانہٗ کی مخلصانہ عبادت کرتا اور شرک اور بدعت اور اہواسے پرہیز کرتاہے تو غرض اس کی اسے ذریعہ قرب الٰہی بنانا ہوتا ہے اور بت پرست اگرچہ حماقت سے بت پرست ہے مگر کہتاوہ بھی یہی ہے کہ (الزمر :۴) ہم تو ان کو خدا کے قرب کا ذریعہ سمجھ کر پوجتے ہیں۔اگرچہ یہ ان کا کہنا اور اس کا عمل درآمد غلط ہی ہے۔پھر ہم دیکھتے ہیں کہ اسباب صحیحہ بھی ہوتے ہیں اور ایسے اسباب بھی ہیں جن کا مہیا کرنا مومن کا کام ہے اور ایسے بھی ہیں جن کا مہیا کرنا عام عقل مندوں اور داناؤں کاحصہ ہے۔اور ایسے بھی ہیں جن کو سبب ماننا باعث شرک ہے اور ایسے بھی ہیں جن کوسبب خیال کرنا جہالت اور وہم اور حماقت ہے۔تعجب انگیز بات ہے کہ بہت سے فلاسفر۔سائنس دان اور حکماء علل مادیہ اور اسباب عادیہ پر بحث کرتے کرتے ہزارہا نکات عجیبہ اور دنیوی امور میں راحت بخش نتائج پر پہنچ جاتے ہیں مگر روحانی ثمرات پر ہنسی ٹھٹھے کرجاتے ہیں وجنوب شمال کو قطب اور قطب نما کی تحقیق میں اور اس پر مشرق ومغرب کو چھان مارا ہے اور سورج اور چاند کی کرنوں سے اور روشنیوں سے بے شمار مزے لوٹے ہیں لیکن اگر کسی کو انہیں نظاموں سے ہستی باری پر بحث کرتا دیکھ لیں تو اس کے لئے مذہبی جنون اور اس کو مجنون قرار دیتے ہیں کیسا بے نظیر نظارہ ہے جس کوایک اسلام کا حکیم نظم کرتاہے۔اشقیا درکار عقبیٰ جبری اند اولیاء درکار دنیاجبری اند علم ہندسہ جس کی بناء پر آج انجینئرنگ اور اسٹرانومی معراج پر پہنچ گئی ہے۔سوچ لو کیسے فرضی امور