نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 256 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 256

ہمت واستقلال سب کچھ کھا کر موسیٰ کے سانپ کی طرح تم دیکھ لو ڈکار بھی نہیں لیا بلکہ جیسے ہمارے ملک میں پادعیب ہے ان کے یہاں تو ڈکارعیب ہو گیا ہے اور ان کے کان تو اتنے لمبے ہیں کہ مشرق ومغرب تک کی آواز ہر روز سن کر سوتے اور اٹھتے ہی سنتے ہیں۔زمانہ سابق میں جب کہ تارپیڈ و اور توپ کا عام موقع نہ تھا لوگ دیواروں سے حفاظت کاکام لیتے تھے جنہیں فصیل کہتے تھے۔چنانچہ لاہور کی فصیل ہمارے سامنے گرائی گئی۔امرتسر کی خندق وفصیل ہمارے سامنے ضائع کی گئی وغیرہ وغیرہ بلکہ دیانند اور منو جی نے فصیلوںکا اپنے شاستروںمیں ذکر فرمایا ہے جن کا آگے حوالہ آتاہے غرض اپنے اپنے وقتوں میں حملہ آورں کی حفاظت کے لئے لوگوں نے ایسی دیواریں بنائی ہیں اسی طرح چین کی دیوار مشہور عالم ہے۔فضل بن یحیٰ برمکی نے اسلام میں ایک ایسی دیوار بنوائی۔دیکھومقدمہ ابن خلدون اقلیم ثالث کابیان صفحہ ۵۴میں ہے کہ ترک اور بلادختل میں ایک ہی مسلک مشرق میں وہاں فضل نے ایک سدّ بنوائی۔سدّ سبا ۸۱ ۹۷ سدّمآرب ۹۶ ۹۷ سدّیاجوج ماجوج ۲۰۶ تقویم البلدان اور بنام دربند صفحہ ۳۵ اور بنام حصن ذوالقرنین ۹۳ کتاب البلدان میں صفحہ۷۱، ۲۹۸، ۳۰۱ اور مراصدالاطلاع کے صفحہ ۱۱۱میں ہے دیکھو مراصد الاطلاع باب الباء والالف طبع فرانس جلد اول اور اسی کی تائید آثار باقیہ سے بھی ہوتی ہے۔صفحہ ۴۱ کہ باب الابواب ایک شہر ہے بحر طبرستان پر جس کو لوگ بحر خرز کہتے ہیں اور وہ جبل قبق کے بہت دروں میں سے ایک درہ ہے اس درہ میں ایک دیوار کو انوشیروان (یہ نیا انوشیروان نہیں پرانا ہے) نے قوم خرز کے حملوں سے بچنے کے لئے بنوایا تھا کیونکہ خرزقوم فارس پر (یہ وہی فارس ہے جو میدیا