نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 251
اب ہم اپنے عہد مبارک میں جودیکھتے ہیں تو اس میں ایک امام ہمام اور مہدی آخر الزمان عیسیٰ دوران کو پاتے ہیں کہ وہ بلحاظ اس معنے قرن کے جس میں سو برس قرن کے معنی لئے گئے ہیں ذوالقرنین ہے جیسے ہمارے نقشہ سے ظاہر ہے اور اس قدر دونوں صدیوںکو اس ذوالقرنین نے لیا ہے کہ ایک سعادت مند کو اعتراض کا موقع نہیں رہتا بلکہ حیرت اور یقین ہوتا ہے کہ یہ کیسی آیہ بیّنہ اور دلیل نیّر اس امام کے لئے ہے اور اس ذوالقرنین نے بھی نہایت مستحکم دیوار دعاؤں اور حجج و دلائل نیرّہ کی بلکہ یوں کہیں کہ مسئلہ وفات مسیح اور ابطال الوہیت مسیح کی بنادی ہے کہ اب ممکن ہی نہیں یاجوج ماجوج ہماری جنت اسلام پر حملہ کر سکیں اور کبھی اس میں داخل ہو سکے۔فجزاہ اللہ احسن الجزاء وعن الاسلام والمسلمین۔سعدی نے مال وزر کو بھی سدّ بنایا تھا مگر وہ سدّ کیا سدّ تھی جیسے سعدی علیہ الرحمۃ نے کہا ہے۔ترا سدّ یاجوج کفر از ز راست سنہ پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود ومہدی ۱۸۳۹ء سنہ پیدائش حضرت صاحب مسیح موعود ومہدی ۱۸۳۹ء عمر حضرت صاحب سن عیسوی کس سن کی ایک صدی کا اختتام اور دوسرے کا آغاز ہوا۔۱ ۱۸۴۰ء ۵۶۰۰ یہود ۸ ۱۸۴۷ء ۲۶۰۰ رومی ۹ ۱۸۴۸ء ۱۹۰۰ بکرمی ۱۳ ۱۸۵۲ء ۱۹۰۰ عیسوی انطاکیہ ۱۴ ۱۸۵۳ء ۲۶۰۰ بنونضر ۱۶ ۱۸۵۵ء ۱۹۰۰ حبولین عیسوی ۲۳ ۱۸۶۲ء ۱۹۰۰ ہسپانی