نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 248
الجواب۔اہل اسلام کی خاطر ہمیشہ فرشتے آیا کرتے ہیں اور آیا کریں گے۔اگر فرشتے اسلام کی خاطر نہ آیا کریں اور نہ آیا کرتے تو جس قدر اسلام کے نابودکرنے کے لئے ہمیشہ دشمنان حق زور لگاتے تھے اور لگاتے ہیں اب تک اسلام نابودہوجاتا۔ہمیشہ اسلام کے مقابلہ میں کافر ذلیل وخوار ہی رہے۔ہمارے نبی کریم ﷺ کے مقابلہ میں تمام عرب وعجم نے کیا کیا زور لگائے مگر کیا اس ایک انسان کاکام تھا کہ کامیاب ہوتا۔کیا اس سے صاف ثابت نہیں ہوتا کہ حقیقی دیوتا اور اس کے مظاہر قدرت دیوتے اس کے ساتھ تھے جب ہی تو دنیا کو حیران کرنے والی فتوحات انہیں نصیب ہوئیں۔آج بھی ہمارے زمانہ میں ہم میںایک حامی اسلام اور سچا مسلمان موجود ہے اس کے استیصال کے لئے بیرورنی دنیا میں تما م عیسائیوں تمہارے نئے بہائیوں، سکھوں وغیر ھم نے اور اندرونی طور پر شیعہ ، سجادہ نشین مولویوں وغیرھم نے کیسے کیسے زور لگائے آخر وہ ملائکہ کا ہی لشکر ہے جو سب مخالفوں کے حملوں کا دفاع کرتا اوران کی آرزؤں کے خلاف ہزاروں ہزار کو اس کے جھنڈے کے نیچے لارہاہے۔تمہاری عادت جھوٹ بولنے کی بہت ہے۔یہ تمہارا سفید جھوٹ ہے جو تم نے کہا ہے کہ تم مرزا کی تعلیم کو دیکھ کر آریہ ہوئے۔اپنے ہی دل میں مطالعہ کرو اور بتاؤ کیا یہ سچ ہے؟نہیں ہرگز نہیں !! تمہارا ہم زبان امرتسری مولوی بھی یقین کرتاہے کہ جھوٹ بولنا تمہاری عادت ہے مگر پھر بھی تمہاری تائید میں تمہارا ہم آوازہو کر ہمیں پکارتاہے کہ مرزا کے دوستو جواب دو۔اس ہی سے سوچ لو کہ ہماری مخالفت میں کیسے کیسے زور لگائے جاتے ہیں۔کہاں تمہاری تردید اور تمہارے سیاہ جھوٹ پر اتنا نہیں کہا کہ تو جھوٹ بولتاہے نیز تم نے مرزا صاحب کی کسی تعلیم پر کوئی اعتراض نہیں کیا اور نہ تم نے یہ ظاہر کیا ہے کہ مرزا نے فلاں آیت کے یہ معنے کئے ہیں اس لئے ترک اسلام کرکے دہرم پال بنا۔امرتسری تُرک کی اندرونی عداوت کا سرجوش تھا کہ کہیں تو لکھ دیا چواز قومے یکے بیدانشی کرد اور کہیں ابراہیم ؑ کی آگ کے سوال پر کہہ دیا۔مرزائیو! کہو۔اس سے تو قیاس کر کہ