نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 246
آئے گی اس کی آنکھوںکو کچھ حرج نہیں پہنچے گا اور ان لوگوں کے تیروں کو مدد دے گی مگرجس فوج کے سامنے ہوا کا دھکّا ہو گا ان کی ا ٓنکھوں میں پڑے گا نہ وہ ٹھیک نشانہ لگا سکیں گے اور نہ مقابل کو اچھی طرح دیکھ سکیں گے۔ایسی باتیں بہت جنگوں میں ہمارے نبی کریم کے عہد سعادت مہدمیں پیش آئیں چنانچہ بدر اور حنین بلکہ جنگ احزاب و خندق میں بھی ایسے ہی واقعات وقوع میں آئے۔اسی نعمت کے یاد دلانے کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(الاحزاب:۱۰)(التوبۃ:۲۶)جب حضرت ہادی کامل (ﷺ) نے مخالف کا زور زیادہ دیکھا تو ایک مٹھی کنکروں کی مخالف کی طرف پھینکی اور دوسری طرف اس وقت جناب الٰہی نے اپنی سنن میں وہ وقت رکھا تھا کہ کنکر پھینکنے والی تیز ہوا چل پڑے اسی طرح عادۃ اللہ ہے۔اسی طریق سے سلسلہ نظام کائنات یعنی جسمانی سلسلہ بھی قائم رہتاہے اور روحانی سلسلہ اور الٰہی سلسلہ یعنی انبیاء واولیاء اور مومنین کی فتح ونصرت کا سلسلہ بھی قائم ہے اور روحانی سلسلہ اور الٰہی سلسلہ یعنی انبیاء اولیاء مومنین کی فتح ونصرت کا سلسلہ بھی قائم رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدوں کی نصرت کے وقت ایسے اسباب پیدا کردیتا ہے جو انسانی طاقت سے بالاتر ہوتے ہیں اور ہوتے ہیں اس کی سنت اور قانون قدرت کے موافق۔چنانچہ میں ایک ذاتی واقعہ سناتا ہوں جو اسی طرح تہی اسباب اور اسی قسم کی خدا کی نصرت کا ثبوت ہے۔مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین نے ایک مقدمہ کیا جس میں شیخ خدا بخش جج تھے میںاس مقدمہ میں گواہ کیا گیا۔ان دنوں ایک شخص مخدوم پیرزادہ ٹنڈو الہ یار علاقہ حیدرآباد سندھ کا رہنے والا علاج کے لئے قادیان میں آیا اور اس نے مجھے نذر کے طورپر آخر ایک سور وپیہ دیا اور بایں کہ امام الدین نظام الدین نے اس کی دعوت بھی کی تھی مگر قدرت الٰہیہ نے ان دونوں کو پتہ نہ لگنے دیا کہ اس مخدوم نے مجھے ایک سو روپیہ دیا ہے۔گواہی کے وقت جب مجھ پر جرح ہونے لگی تو آریہ وکیل نے مجھ پر سوا ل کیا۔کیا آپ کو اس سال کسی نے یکدفعہ ایک سو روپیہ بھی اس پیشہ طبابت