نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 241 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 241

کہ مسیح بے پدر تھا۔(۳)ہمارے پیارے صحابہ کرام اور ہمارے آئمہ اربعہ فقہاء اور دیگرائمہ عظام نے ہمیں کہیں ہدایت نہیں کی کہ اسلامی ضروریات سے ہے کہ مان لو مسیح بے باپ تھا۔(۴)ہم کو ہمارے صوفیاء کرام نے اپنی تعلیمات میں کہیں تاکید نہیں فرمائی کہ اسلام میں قرب الٰہی کے مدارج ومسالک واصلاح نفس وحصول اخلاق فاضلہ کے لئے لابدہے کہ یہ بھی یقین کرو کہ مسیح بے باپ تھے۔(۵)مسیح علیہ السلام کے ماسوا کس قدر انبیاء ورسل اور اللہ تعالیٰ کے مامور گزرے ہیں کسی کا نسب نامہ قرآن کریم میں لکھا ہے؟بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:  (المدثر :۳۲) پس سب کے وجود کا علم بھی ضروری نہیں چہ جائیکہ وہ کس طرح پیداہوئے۔پھر عیسائیوں کے مذہب میں بلاباپ پیداہونا مسیح کی الوہیت کی دلیل ہی نہیں ان کے یہاں تو ملک صدق آدم سب بلاباپ پیدا ہوئے۔پھر یہ مسئلہ اسلام کا جزو نہیں تو یہ مسئلہ تم کوباعث ترک اسلام کیوں ہوا۔عام تحقیقات کے مسائل میں یہ مسئلہ بھی ہے۔میں خود مدت تک باایں کہ اسلام میرا ایمان اور میری جان ہے اس بات کو مانتا رہا گو اب میں اس بات کا قائل نہیں رہا مگر آریہ صاحب تمہارے نزدیک تو بے با پ ہونے میں تو تامل نہیں ہو سکتا کیونکہ دیانند نے تو سملاس فقرہ ۴۰ صفحہ ۳۳۴میں لکھا ہے۔’’دہرم راج یعنی پرمیشور اس جیئو کے پاپ پن کے مطابق جنم دیتا ہے وہ (روح) ہوا ، اناج، پانی، خواہ جسم کے مساموں کے ذ ریعہ سے دوسرے کے جسم میں ایشور کی تحریک سے داخل ہوتا ہے بعد داخل ہونے کے سلسلہ وارمنی میں جاکر حمل میں قائم ہو کر جسم اختیار کر کے باہر آتاہے نیز اگنی، وایو، ادت اور انگرہ کا کون باپ تھا۔یہ تو تمہارے مہارشی اور ویدوں کے مصنف اور تمہارے سلسلہ مذہب کے اصل بانی ہیں کیا سبب بلاباپ نہیں؟‘‘ دیکھو ستیارتھ سملاس نمبر۸ فقرہ۴۰ وغیرہ میں بتایا ہے کہ ایشری سرشٹی اور میتہنے سرشٹی اور اور قسم کی ہوا کرتی ہیں۔یہ تو تمہاری اور ہر ایک بدقسمت قوم اور متنزل لوگوںکی عادت ہے کہ غیر ضروری مسائل پر بہت بحثیں کی جاویں اور ان کو مذہبی رنگ دیا جاوے بہر حال شائد تمہیں ہدایت ہو جاوے کچھ اور سنو۔