نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 236
کہ دیکھ اے میرے لوگ میں تمہاری قبروں کو کھولوں گا اور تمھیں تمھاری قبروں سے باہرنکالو ںگا اور اسرائیل کی سر زمین میں لائوںگا۔آہ ! اب غور کرو کہ یہاں اسرائیلی لوگوں کی تباہی اور پھر ان کی آبادی کی پیشگوئی ہے کہ یہ لوگ کامل تکلیف بد حالی کے بعد اپنے ملک میں آباد ہو جائیں گے۔یہاں قرآن میں بھی سورہ بقرہ میں صحابہ کوجو تکالیف مکہ میں پہنچیں اور وطن سے بے وطن ہو کر کہیں حبش میں اورکہیں مدینہ طیبہ میں حیران ہوتے تھے ان کو تسلی دی جاتی ہے کسی کا زندہ و آبادکرنا ، کسی کوہلاک کرنا اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔اس سے تھوڑے فاصلہ پرپہلے فرمایا جالوت کو طالوت نے ہلاک کر دیا۔حالانکہ وہ غریب اور بنی اسرائیل کی نظر میں ذلیل تھا۔اورپھر داؤدعلیہ السلام نے کس طرح ایک اور جالوت کو تباہ کیا۔حالانکہ حضرت داؤدؑاس وقت تک بچے اور بہت غریب تھے۔اور جالوت بڑازبردست اورچالاک تھا قتل کا وقوعہ تو لابد ہے مگر تم تسلی رکھو تمہاراہی رب القادر جو زندہ کرتاہے اور وہی تمہیں طیبہ زندگی عطا کرے گا جس طرح اس نے بنی اسرائیل کوزندہ کیا۔جب بابلیوں نے انہیں خاک میں ملایا تھا ان کا بیت المقدس آخر سو برس کے عرصہ میں آباد ہوہی گیا۔سوال نمبر ۷۱۔ابراہیم علیہ السلام سے چار پرندے ٹکڑے کرا کے زندہ کئے مفسروں نے کوا۔کبوتر۔فاختہ۔مینا کہاہے اور سر اپنے پاس رکھے۔الجواب۔وہ ا ٓیت جس پر دارومدار اعتراض کا ہے وہ یہ ہے۔(البقرۃ :۲۶۱)اس میں پہلا قابل بحث لفظ ہے سو سنو! صُرْھُنَّ اَمِلْھُنَّ نحوک من الصور ای المیل پس صرھن کے معنی ہوئے اپنی طرف مائل کر لے۔مفردات القرآن اور کتب لغت میں ہے۔حضر ت ابراہیم کو ان کے ایک سوال پر اللہ تعالیٰ نے ایک دلیل بتائی ہے کہ کس طرح مردے زندہ ہو ں گے۔اس پر فرمایا دیکھ ان جانوروں کو جو جسم اور روح کا مجموعہ ہیں تیری ذرہ سی پرورش