نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 225 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 225

نار الحرب۱؎ کو جلایا اور صدہا مسعر الحرب ۲؎ اٹھ کھڑے ہوئے اور جس طرح وہاں ابراہیم علیہ السلام کے لیے آگ کو برد اور سلام بنایا اسی طرح ہمارے ہادی اور مقتدا کے لیے خاص اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو بجھا دیا اور فرما دیا : (المائدۃ :۶۵) یعنی جب کبھی ہمارے نبی کریم کے دشمنوں نے آتش جنگ جلائی اللہ نے اسے بجھا دیا۔سن اے نکتہ چیں!ابراہیم ؑکے زمانے پر ہزاروں برس اور ہمارے شفیع پر ﷺ چودہ سو برس گزرتے ہیں اور تو نے اور ایک تیرے اس معاملہ میں مؤید و ہم زبان تیز زبان نو جوان امرتسری مولوی نے ہمیں اس طرح خطاب کیا ہے۔چاہیے کہ آجکل کسی اہل اسلام کو جو ملہم اور پیغمبر ہو کر خدا کے ساتھ عیسیٰ یا موسیٰ کی طرح باتیں کرنے کا دم بھرتا ہے ایک لمبی چوڑی بھٹی کو آگ سے بھر کر بیچ میں پھینک دیا جاوے اگر آگ گلزار ہو جاوے تو سمجھے کہ قرآنی معجزے سب سچ ہیں۔امرتسری مولوی پھر اپنی کتاب میں فرماتے ہیں یہ مرزا صاحب قادیانی کی طرف اشارہ ہے۔مرزا جی کے دوستو ! کیا کہتے ہو (ترک اسلام) سن اے تارک اسلام! اور دیکھ اے بزدل نادان ترک اسلام !ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے کامل یقین اور پورے اعتقاد سے دعویٰ کرتے ہیں اور تمہیں اور تمام جہاں کو سناتے ہیں کہ ہمارا مہدی اور عیسیٰ ابن مریم اس وقت موجود ہے اور اس کو وحی ہو چکی ہے پھر سنو! اور غور سے سنو!! وہ وحی الٰہی جو امام زمان کو ہوئی ہے یہ ہے۔نظرنا الیک معطرًا و قلنا یا نار کونی بردًا وّ سلاماً علٰی ابراہیم۔اس وحی الٰہی میں ہمارے امام مہدی موعود ؑحضرت مرزا غلام احمد کو ابراہیم کہا گیا ہے اس کے علاوہ عالم الغیب قادر خدا نے آپ کو یہ بھی وحی کی ہے’’ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی بھی غلام ہے ‘‘اور پھر خدا تعالیٰ نے فرمایا ’’ کمثلک در لا یضاع‘‘یعنی تیرے