نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 8
(المائدۃ :۴) کی صدا ان کے کان میں پہنچے اور کیا(المائدۃ : ۴) کا خلعت ایسا ملتا ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ کو ملا۔آپؐ نے آخر ایام میں دنیا سے اس وقت کوچ کیاجب تمام مخالف سر بسجود للہ الکریم ہو گئے اور تمام معبد شرک اور مخالف بے نام و نشان ہوئے۔یہ بے نظیر فتح مندی سوائے دھارمک ۱؎ پرش کے ممکن ہی نہیں۔جو مانگا سو پایا۔جو چاہا سو ملا۔پس یہ رضا الٰہی کا ثمرہ تھا۔جس طرح ابتداء اسلام میں اسلام نے جنگ میں ابتداء نہیں کی۔اسی طرح اِس وقت روحانی اور دلائل کے جنگ کے وقت بھی اسلام نے ابتدا نہیں کی۔بعض نادان وبے خبر مسلمان اس حقیقت کو نہ سمجھیں توان کی حماقت وجہالت ہے اور ایسے کم عقل ہر قوم میں ہوا کرتے ہیں مثلاً مسیحی مذہب نے پادری فنڈر کی افسری سے اسلام پر میزان وطریق وغیرہ سے حملہ کیا اور آریہ سماج نے ستیارتھ کے چودہویں پورے سملاس اور بھو مکا وغیرہ رسائل میں جستہ جستہ مقامات میں اسلام پر خطرناک حملہ کیا۔اسلام کے خدا پر جو ہمارا اور اس کا ایک ہی خدا تھا۔گو ان سے یا ہم سے اس کے صفات کی فہم میں غلطی ہوئی اور اسلام کی کتاب پر اسلام کے ہادی و مصلح پر وہ گالیوں کا طوفان باندھا ہے کہ الامان!اگر صاحب سماج کو کوئی سادہ نام سے یاد کرے تو آریہ سماج آگ ببولا ہو جاوے اور خود جو چاہا اناپ شناپ لکھ دیا ہے۔پھر ان کی تاثیر سے آریہ مسافر نے تو خاتمہ کر دیا۔اور اس کے پوتے صاحب یوگندر پال اور دھرمپال نے جو شیریں کلامی اور نرمی دکھائی ہے اس کے لئے یہ ترک اسلام کا مختصر رسالہ کافی گواہ ہے۔ایک ہمارے نون میانی کے ہم مکتب آریہ سماجی ایک بار مجھے سے فرمانے لگے کہ کہو جی کون دھرم ہے والی نظم پہلے کس نے لکھی۔میں نے عرض کیا جناب ! آپ وہ لوگ نہیں جن کے مقابلہ پر وہ نظم ہے بلکہ ان پر تو خود مہارشی آپ کے سرسوتی اور سوامی جی نے وہ لے دے کی ہے کہ جس کے مقابلہ میں ہمارے تحفہ اور اس قصیدہ کی کوئی ہستی ہی نہیں۔یہ بتائیے کہ سماج پر کس مسلمان نے پہلے کچھ لکھا ؟ اس پر وہ خاموش تو ہو گئے مگر علاج کے لئے آئے تھے بہت جلد واپس چلے گئے۔ہاں ناواقف مسلمان اب بھی کہتے ہیں کہ مرزا جی نے اسلام کو مسیحیوں اور آریہ سے گالیاں دلائی ۱؎ دیندار۔صالح۔بزرگ