نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 215
موت کے معنی سکون۔کیا معنی؟ حرکت نہ کرنا۔ماتت الریح۔ہوا ٹھہر گئی۔۳۔موت ،حیات کے مقابلہ ہوا کرتی ہے اور حیات کے معنی میں آیا ہے قوت نامیہ کا بڑھنا قرآن کریم میں آیاہے۔(الحدید :۱۸)زمین کو اللہ تعالیٰ اس کی موت کے بعد زندہ کرتا ہے۔۴۔قوت حسیہ کے زوال پر موت بولتے ہیں۔قرآن کریم میں آیا ہے۔(مریم :۲۴) کیا معنی ؟بچہ جننے سے پہلے میری قوت حسیہ نہ رہتی کہ درد تکلیف دہ ہوتا۔۵۔جہل و نادانی کو موت کہتے ہیں۔قرآن میں یہ معنے آئے ہیں۔(الانعام:۱۲۳) ۶۔حزن۔۷۔خوف مکدر کو موت کہتے ہیں۔قرآن میںیہ محاورہ آیاہے۔(ابراہیم :۱۸) ہر طرف سے اس پر خوف اور غم آتے تھے۔۸۔احوال شاقہ۔فقر۔ذلت۔سوال کرنا۔بڑھاپا ۹۔اور معصیت وغیرہ کو موت کہتے ہیں حدیث میں آیا ہے اوّل من مات ابلیس۔۱۰۔اور آیا ہے اللبن لایموت زندہ سے جو جزو الگ ہو وہ مردہ ہے مگر دودھ۔بال۔اون۔مردہ نہیں ہوتے۔یہ موت کے معنے ہوئے اور اسی طرح مفردات راغب میں موت کے بہت معنی بتائے ہیں۔اور تیسرا لفظ بعث کا ہے۔۱۔بعث کے معنے بھیجنا۔قرآن میں ہے۔(النحل :۳۷) ۲۔اٹھانا۔قرآن میں ہے۔(الکھف:۱۳)۔حدیث میں ہے فَبَعَثناَ البَعِیْرَ۔۳۔متوجہ کرنا۔قرآن میںہے۔(التوبۃ :۴۶) لیکن