نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 214 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 214

تو کہ تم قدردانی کرو۔صاعقہ صعق سے نکلا ہے۔صعق کے معنی میں لکھا ہے۔الصعق ان یغشی علیہ من صوت شدید یسمعہ وربما مات منہ۔(مجمع البحار) صعق یہ ہے کہ بے ہوشی پڑ جاوے کسی پر کسی سخت آواز سے جس کو اس بے ہوش ہونے والے شخص نے سنا اور کبھی اس سے موت بھی ہوجاتی ہے۔قرآن کریم میں آیا ہے۔(الاعراف:۱۴۴) موسٰی بے ہوش ہو کر گر پڑے پس جب افاقہ آیا۔پھر مجمع البحار میں لکھا ہے ینتظر بالمعصوق ثلاثا مالم یخافوا علیہ نتناوھو المغشی علیہ او من یموت فجاء ۃ ولا یعجل دفنہ۔جس پر صاعقہ گرے اور اس کو تین دن تک دفن نہ کیا جاوے۔جب تک سڑجانے کا ڈرنہ ہو اور یہ وہ ہے جس پر غشی ہو یا اچانک مرجاوے دفن میں جلدبازی نہ کی جاوے۔مفردات راغب میں لکھاہے الصاعقہ تین قسم کا ہوتا ہے۔۱۔موت: فرمایا ہے(الزمر:۶۹) ۲۔عذاب: فرمایا ہے۔(حٰمٓ السجدۃ:۱۴) ۳۔آگ :فرمایا ہے۔(الرعد :۱۴) اس بیان سے اتنا معلوم ہو گیا کہ صاعقہ۔بے ہوشی۔موت۔عذاب اور نار کوکہتے ہیں۔دوسرالفظ قابل غور موت کا لفظ ہے۔موت کے معنی مجمع البحار میں جولغت قرآن وحدیث کی جامع کتاب ہے یہ ہیں۔۱۔موت کے معنی سوجانا۔حدیث میں آیا ہے۔احیانا بعد ما اماتنا۔