نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 191 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 191

سوال نمبر ۴۴۔مردار۔سؤر اور خون حرا م ہے‘‘۔(۱)مردار کی تعریف کہ جس کی روح الگ ہو گئی ہو گو ذبح ہو(۲)خون حرام ہے تو گوشت کیوں حلال ہے تمام جسم کی بالیدگی خون سے ہوتی ہے۔(۳) مادہ کے رحم میں نطفہ مادہ کے خون سے بنتا ہے اور اسی سے پرورش پاتا ہے۔(۴) سؤر کیوں حرام ہے‘‘۔الجواب۔(۱)جو تعریف آپ نے مردار کی ہے وہ غلط ہے اور بالکل غلط ہے۔اسلام میں مردار اس جانور کو کہتے ہیں جو ذبح اور نحر اور شکار کے سوا خود بخود مرگیا ہو۔مردار سے علی العموم خون نہیں نکلتا۔(۲)خون میں تیس سے زائد قسم کی زہریں ہوتی ہیں۔خون کھانے والے لوگوں میں ان زہروں کے استعمال سے بہت سے قویٰ تباہ ہوجاتے ہیں اور یہ ظاہر بات ہے کہ مردار خوار اور خونخوار قوموں کی عقل اور ذہنی قویٰ نہایت کثیف اور کودن ہوتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ شدید تغیرات سے احکام بدل جاتے ہیں چنانچہ تمہارے نزدیک بھی یہ امر مسلّم ہے کہ ہر ایک جزو حیوان کاخون سے بنتا ہے مگر تم لوگ دودھ کو جو خون سے بنتا ہے پیتے ہو اور ذرہ تامل نہیں کرتے گوشت اگر خون سے بنتا ہے تو دودھ۔دہی۔مکھن۔بالائی بھی خون سے ہی بنتی ہے۔غور کرو اور نکتہ چینی کے وقت عقل اور انصاف کی حد سے باہر نہ نکل جاؤ۔اور یہ بھی مسلّم امر ہے کہ غذا کا اثر غذا خور پر پڑتا ہے اسی واسطے لکھا ہے کہ برہمن،کھشتری۔ویشون کو ناپاک یعنی بول وبراز وغیرہ کی میل سے پیدا ہوئے ساگ۔پھل۔مول وغیرہ نہ کھانا چاہیے اور جوجو چیزیں عقل کوکھونے والی ہیں ان کا استعمال کبھی نہ کریں دیکھو صفحہ ۳۵۷،۳۵۸ ستیارتھ پرکاش۔(۱) سؤر نر سے میل کرتاہے اس واسطے اکثر سؤر خور ساڈومی کے مرتکب ہوتے ہیں۔(۲)جماع کابڑا خواہش مند ہے اس واسطے وہ لوگ زیادہ تر زانی ہوتے ہیں۔(۳)گند سے اسے محبت ہے۔اسی واسطے کل جلالہ گندخور جانور اسلام میں حرام ہیں۔(۴)ہاگ کالراکی جڑ ہے۔(۵) سؤر