نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 190
پس جیسے ہمارے سب کام الٰہی رضا مندی کے لئے ہونے چاہئیں اسی طرح قربانیاں بھی اسی کے نام کی ہونی چاہئیں۔سجدہ ہو تو اسی کا۔تعظیم ہو تو اسی کی۔ذبح ہو تو اسی کے نام کا وغیرہ وغیرہ۔سوم۔چونکہ ظاہر کا اثر باطن پر پڑتا ہے اس لئے یہ ظاہری نظارہ کہ ہم نے کس طرح ایک جانور کو جو ہمارے ماتحت ہے ذبح کر دیا ہے جناب الٰہی کی کبریائی کویا ددلاتاہے کہ ہم اور ہمارے اطباء اور ہمارے مدبر ومحافظ اور دعائیں اور شفاعت کرنے والوں کی تمام کوششیں اس محدود زندگی کے لئے ان کی محنتیں بے سود ہو جائیں گی اور بے سود ہوجاتی ہیں۔اسی طرح حق سبحانہ وتعالیٰ کی طر ف سے جب حقیقی طور پر وفات وموت کا وقت آتا آگیا جو ہمارے لئے مقدر ہے ہزار ہاتھ پاؤں ہلائیں گے کچھ مفید نہ ہوگا۔اس قربانی کے اس نظارہ سے انشاء اللہ امید ہے کہ آخر انسان اس نتیجہ پر پہنچ جاوے اگر سلیم الفطرت ہے کہ دنیا روزے چند عاقبت کاربا خداوند مجھے کامل فرمانبرداری حق سبحانہٗ وتعالیٰ کی چاہیے۔چہارم۔جہاں تک نظام کائنات کا مطالعہ کیا جاتا ہے اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ عناصر بسیط سے لے کر حیوانات تک بلکہ ادنیٰ انسانوں سے لے کر متوسطین تک اعلیٰ درجہ کے انسان کے لئے نیابت کرتے ہیں۔اور نظارے جانے دو۔بیل جی زمین کے پھاڑنے۔پانی کے دینے۔باربرداری کے لئے ہروقت انسان کی محنتوں کے بدلہ اپنے آپ کو لگائے ہوئے ہیں اور کوئی عقل مند یا رحیم مذہب اس سے مضائقہ نہیں کرتا۔خود گاؤ تمہاری ماتا جی چرواہے کے قبضہ میں تمام دن کاٹتی ہے اور اس کا بچہ اس سے الگ’’ بلبلاتاہے‘‘ اور تڑپتا ہے‘‘۔پرمہاتما لوگ اپنے لئے اور اپنے ہب اور ہون کے لئے کوئی آریہ سماجی رحم نہیں کھاتا۔اسی طرح فوجیں اور اس کے متوسط افسر اعلیٰ انسان کے لئے کٹوائے جاتے ہیں اور مارے جاتے ہیں تو کیا اس سے یہ چوتھی وجہ قربانی کی نہیں نکل سکتی کہ ہم بیماروں کی جان کے بدلہ بھی ان کو قربان کریں۔