نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 181
ایسی قربانی نہ لائے جسے آگ کھاجاتی (سوختنی قربانی)تو کہہ مجھ سے پہلے رسول بینات لے کر اور تمہاری مانگی ہوئی چیز (سوختنی قربانی)کو بھی لے کر آئے پھر تم نے انھیں کیوں قتل کیا۔اگر تم صادق ہو۔تیسری وہ تمام قربانیاں موقوف کر دیں جن میں یہ خیال پیدا ہو سکے کہ وہ تراکیب ہمارے گناہوں۔بدکاریوں۔نافرمانیوں کا کفارہ ہوں گی ایسی ہی قربانیوں نے جو ایک برّے کی ہوئی یا نہ ہوئی تمام عیسائیوں کو دلیر وبے باک کر دیا ہے۔ایسی ہی قربانیاں بعض جگہ منوجی نے ویدوں سے بیان کی ہیں چونکہ منوجی ایسی معتبر کتاب ہے جس کے ذریعہ سے تمام ستیارتھ بھرا پڑا ہے۔ہمیں امید ہے کہ آریہ سماج اس کو تسلیم کرے گی والّا دکھائے گی کہ منو جی کے وہ اقوال کس ویدک منتر کے وردہ ہیں۔منوجی ادھیاتین شلوک نمبر ۶۸میں لکھتے ہیں۔گرستھ کے گھر میں چولہا۔سل بٹہ۔جھاڑو۔اوکھلی۔موسل۔پانی کاگھڑا ان سب سے کام لینے میں جئو مرتے ہیں۔شلوک نمبر ۶۹۔ان پانچوں کے پرائشپحت کے لئے پانچ مہان یگیہ کو گرستھ لوگ نتیہ ہی کریں۔شلوک نمبر۷۰۔پانچ مہایگہ یہ ہیں۔وید کا پڑھنا۔برہم یگیہ۔پترون کا ترپن۔پنر یگیہ۔ہون کرنا۔دیو یگیہ۔بل دینا۔اتتھ کا پوچن۔منشہ یگیہ۔شلوک نمبر ۷۱۔جو کوئی سامرتھ کے موافق ان مہا یگیہ کو کرتاہے وہ روزمرہ کی ہنسا(جان کشی) کے پاپ سے چھوٹا رہتا ہے۔قربانی کے مضمون کا آخری تیسر ابقیہ ہم نے اس مضمون کے پہلے حصہ میں بتایا ہے کہ قربانیاں کرنا انسانی فطرتوں کا مقتضی ہے اور اس کو واضح کر کے دکھایا ہے کہ قربانی کرنے میں شامیوں۔یافث اور عامیوں کی کوئی خصوصیت نہیں۔پھر دوسرے حصے میں یہ بھی بتایا ہے کہ اسلام نے قربانی میں کیا اصلاح فرمائی ہے اور کن