نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 165 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 165

معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ لوگ ایسے عمل کریں گے کہ جن سے جنت کے حقدار بن جائیں گے اور اس کے علاوہ انہیں ریاست بھی ملے گی۔اور سونے اور چاندی کے ساتھ بنُے ہوئے کپڑوں سے مراد ہے بہتری دین میں اور دنیا میں اور مقصد پر پہنچ جانا۔جوشخص دیکھے کہ اس کی ملک میں ریشم اور استبرق کے لباس ہیں یا انہیں پہن رکھاہے یا یاقوت کا تاج سر پر دیکھے ایسا شخص پرہیز گار دیانت دار،غازی ہوتاہے اور علاوہ برآں اسے سلطنت بھی نصیب ہوتی ہے اور دیکھو سوال نمبر۴۰کا جواب۔سوال نمبر ۳۹۔بہشت میں نہریں ہوں گی۔بعض کہتے ہیں کہ دودھ اور شہد کی نہریں۔الجواب۔او بد بخت! اسلامی نہروں سے محروم! دیکھ تیرے سام وید نے تجھے اب وید سے بھی متنفر کرانے کی تجویز کی ہے۔جو کوئی کہ اُس خلاصی یعنی پومن (سوم) بھجن کو جسے خدا رسیدہ لوگوں نے جمع کیا پڑھتا ہے اس کے لئے سرسوتی،پانی،مکھن،دودھ اور مدہ برساتا ہے۔دیکھو سام وید پر پاٹھک ۸سوم پومن صفحہ۱۲۹ (پرپاٹھک ۹، سرسوتی) ہاں اُس سات بہنوں والی پیاری نہروں میں نہایت پیاری سرسوتی نے ہماری تعریف حاصل کی ہے۔وہ رس کی نہر کے ساتھ اپنے تئیں صاف کر کے زردو سُرخ رنگ ہو کر چمکتا ہے۔اس وقت جب کہ وہ مدح گویوں کے ساتھ سات مُونہہ رکھنے والا تعریف کرنے والوں کے ساتھ کل شکلوں کا احاطہ کرتا ہے۔صفحہ ۵۱۔وہ مضبوط پہاڑی ڈنٹھل مستانہ خوشی کے لئے نہروں میں نچوڑا گیا ہے باز کی طرح وہ اپنی جگہ قرار پذیر ہوتا ہے۔صفحہ ۵۳۔اے اندر! تیری نہر قوت کے ساتھ دیوتاؤں کی ضیافت کے لئے بہتی ہے۔اے سوم مدہ سے مالا مال! ہمارے برتن میں نشست گاہ اختیار کر۔صفحہ ۶۴۔دودھ ان کی طرف اِس طرح دوڑا ہے جس طرح طُغیانیاں کسی چٹان پر دھکیلتی آتی ہیں۔وہ اِندر