نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 149
نصف رمضان میں ہو گا اور یہ مہدی کا نشان ہو گا۔چنانچہ ۱۳۱۱ہجری میں رمضان شریف کی ۱۳تیرہ تاریخ کو جو چاند گرہن کے لحاظ سے پہلی تاریخ ہے اور اسی رمضان کی اٹھائیس تاریخ کو جو سورج گرہن کے لئے درمیانی وقت ہے اور تواریخ سورج گرہن کے لحاظ سے نصف ہے سورج گرہن ہوا اوریہ واقعہ ایشیا ،یورپ اور افریقہ کے لئے ظہور مہدی کا نشان ہوا اور پھر ۱۳۱۲ہجری میں اسی طرح امریکہ میں گرہن ہوا اور یہ دوسرا آسمانی نشان مہدی کا تھا جو ظہور پذیر ہوا اور وہ مہدی جس کا یہ نشان ظاہر ہوا حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود ہیں۔صلوات اللہ علیہ وعلیٰ مطاعہ محمد سید الرسل وخاتم الانبیاء۔سوال نمبر ۳۳۔’’ستارے گر پڑیں گے۔گر کر کہاں جائیںگے۔کیا زمین پر اگرہاں‘‘ الجواب۔اگرہاں کا مقابلہ آپ بھول گئے۔سنو ! انتشر کے معنے ہیں ،جو انتشرت میں آیاہے تفرق کے ہیں۔کیا معنے؟ ان کا اجتماع اور نظام موجودہ متفرق ہوجائے گا۔اب اس میں تو قیامت پرلے کا حال ہوا۔پھر آپ کو کیونکر انکار ہو سکتا ہے؟ ہاں سائنس دان ہو کر،اسٹرانمر ہو کر اعتراض کرتے تو بجا تھا۔میرا یقین کامل ہے کہ مذاہب میں ایک مذہب بھی نہیں جو اسلام پرکوئی اعتراض کرے اور خود اس کے گھر میں اس سے بڑھ چڑھ کر نشانہ اعتراض چیز موجود نہ ہو۔سوال نمبر۳۴۔’’زمین باتیں کرے گی۔سورج چاند کیوں نہ کریں گے،ستارے کیوں خاموش ہیں۔‘‘ الجواب۔۱۔اوّل تو سورج اور چاند کی خاموشی کا ذکر نہیں جو آپ کو اس پر تعجب ہوا۔۲۔دوم ستارے بھی تمہارے دیانند کے اعتقاد میں زمین ہی ہیں پس ان کی خاموشی بھی ثابت نہیں کیونکہ وہ بھی زمین ہیں یا زمین کی طرح ہیں۔پس جیسے یہ زمین باتیں کرے گی وہ بھی باتیں کریں گے۔۳۔سوم۔یہ تاتستھ اوپادہی ہے اگر تم کو اس کی سمجھ نہیں تو پڑھو ستیارتھ پرکاش صفحہ نمبر ۲۵۴۔