نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 129
اگر کوئی معنی پوجا کے کئے جا سکتے ہیں تو سجدہ کے کیوں نہیں کئے جاتے۔آج ایسا اعتراض کرنا اور ایسے شخص کے منہ سے ایسا اعتراض نکلنا جو انگریزی پڑھا ہے کس قدر شرم کی بات ہے۔انگریزی زبان میں ورشپ کا لفظ کس قدر وسیع اور روز مرہ کی بول چال میں آتا ہے حتیٰ کہ ججوں کو ہزورشپ کہا جاتاہے۔اس کے معنے سوائے اس کے اور کیا ہیں کہ وہ قابل اطاعت شخص ہیں۔قرآن میں آیا ہے کہ درخت اور چار پائے اور آسمان زمین کی ساری چیزیں خدا کو سجدہ کرتی ہیں اور امرء القیس کے شعر میں ہے کہ تمام جنگل ان گھوڑوں کے سموں کو سجدہ کرتے تھے۔اب صاف ظاہر ہے کہ وہ سجدہ عرفی نہیں جو زمین پر گر کر پیشانی کو زمین سے ٹکرا دیتے ہیں۔(النحل :۵۰) اللہ کی فرمانبرداری کرتے ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔(الحج :۱۹) اوراللہ کی فرمانبرداری کرتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔تو کیا آسمان وآسمان کی چیزیں اور زمین کی زمین پر گرتی ہیں۔تمہارے آریہ مسافر کے جواب میں اور تنقیہ والے کے دفاع میں ہم نے ایک مضمون لکھا تھا جب وہ مرگیا توہم نے اس مباحثہ سے اعراض کیا اور یہ مضمون پڑا رہا۔اب جو تم نے نئی چھیڑ کی تو اس مضمون کو مختصراً لکھ دیتے ہیں۔آریہ مسافر اور تنقیہ والے کا اعتراض حسب ذیل ہے۔’’جس زمانہ میں کہ آنحضرت محمد صاحب ہوئے تھے اس وقت بت پرستی بہت پھیلی ہوئی تھی الی ان قال‘‘ ’’مگر چونکہ ان کی سرشت میں بت پرستی بھری ہوئی تھی احکامات مندرجہ عین بت پرستی کے ظاہر وصادر ہوئے‘‘۔پہلا حکم۔(البقرۃ:۳۵) یہ آدم پرستی ہوئی۔