نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 93 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 93

نصاف اور درگزر کو بیان کرتا ہے۔کیا معنے ؟جب انسان بدی اور نافرمانی سے پکی طرح رجوع کرتا ہے اور اس کو چھوڑ دیتا ہے پھر کامل ایمانداری کے ساتھ اچھے اچھے عمل کرنے لگ جاتاہے۔تب اس کی حفاظت کی جاتی ہے اور خدا کا فضل اور اس کی حمایت کا ہاتھ گناہوں اور ان کی سزا کے مقابل اس کے لئے محافظ ہو کر رومال اور خود بن جاتاہے۔سوال نمبر۸۔’’اس کو(خدا کو)بدی کا پیدا کرنے والا مانا گیا ہے۔نادان لوگ تقدیر۔تدبیر اور آزمائش وغیرہ کا ڈھکوسلا بیچ میں لا کر خدا کو الزام سے پاک کرنا چاہتے ہیں‘‘ الجواب۔اصل آیت جس کا تم نے حوالہ دیا ہے وہ یہ ہے۔ ۔(النساء:۷۹،۸۰) تم جہاں ہوگے تم کو موت گھیرلے گی اگرچہ تم مستحکم برجوں میں ہو گے اور اگر انہیں کوئی سکھ مل جائے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی دکھ پہنچے تو کہتے ہیں یہ تیری طرف سے ہے تو کہہ سب اللہ کی طرف سے ہے پس کیا ہوا ان لوگوں کو کہ بات کو نہیں سمجھتے جو سکھ (فائدہ) تجھے پہنچے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو دکھ پہنچے وہ تیرے ہی طرف سے ہے اور ہم نے تجھے لوگوںکے لئے رسول بھیجاہے۔اس آیت میں حقیقت واقعیہ اور سچائی کا کامل اظہار جناب الٰہی نے فرمایا ہے۔جو لوگ دینی اور قومی لڑائیوں سے سستی اور غفلت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ چند روزہ زندگی تو گزارنے دو۔ان کو کہا کہ آخر تم نے مرنا ہے۔پھر ان کی نافہمی کا اظہار فرمایا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہیں اگر ان کو