نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 46 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 46

نمبر۱۱۔(الدھر:۲۲) اور ذھب کا جواب سوال نمبر ۴۰صفحہ ۸۷ میں آیاہے اور قرآن کریم میں(الرحمٰن :۴۷) میںدو جنتوں کے وعدے ہم کو دئیے ہیں۔ایک دنیوی اور دوم بعد الموت۔ایک وہ ہے جس کو توریت کے باب ۲۱۔۱۵میں جنت عدن کہا ہے اور مسلم کی صحیح میں۔ضمنی سوالات۵ سوال اور ان سوالوںکے مختصر جواب جو لاہور کے ایک معززدوست نے پیش کئے کہ دفتروں میں آریہ سماجی کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کرے کہ ہماری جماعت لاہور کے وہ صاحب اور اس کے بچے چراغ ہوں۔آمین یا رب العالمین۔سوال (۱)۔مسجد خدا کا گھر ہے۔پس خدا محدود ہوا۔(۱) الزامی جواب۔منو ا۔۱۰ میں ہے۔سنسکرت میں پانی کو نارا کہتے ہیں وہ پہلے پرماتما کا گھر تھا اس لئے پرماتما کو نرائن کہتے ہیں اور رگوید آدھی بھاشیہ بھومکا ترجمہ نہال سنگھ کرنالی کے صفحہ ۱۴۱بحوالہ وید لکھاہے۔جس ملک میں علم اور دھرم کی ترقی اور اشاعت ہوتی ہے وہ میرا مقام مالوف ہے۔اصل وید کے منتر بتانے کے لئے آریہ سماج ہی اب ذمہ وار ہے اور اس میں کیا شک ہو سکتاہے کہ مکہ معظمہ سے وعظ توحید شروع ہوا۔اسی معظم مکان نے مسئلہ توحید کی تائید کی اور شرک کا استیصال کیا۔قومی نفاق اور طوائف الملوکی اور خانہ جنگیاں عرب کی دور کیں۔دختر کشی۔شراب اور خطرناک قمار کا اس ملک میں نام و نشان نہ چھوڑا۔اتباع میں نفاق وکسل و کاہلی کے بدلہ آزادی۔صبر وہمت واخوت وہمدردی و شجاعت و استقلال اور عزم کو پیداکر دیا۔اب بتاؤ یہ مکان خدا تعالیٰ کا۔’’مقام مالوف‘‘اور گھر نہ ہو تو اور کونسا ہو؟ (۲) خاص نسبت اور تعلق کے لئے اضافت ہوا کرتی ہے اس سے کوئی عقل مند منکر نہیں۔اسلامی مساجد (سجدہ گاہیں)صرف الٰہی عبادت کی جگہ ہیں اور محض اللہ ہی کی رضا مندی کے لئے