نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 31 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 31

ستیارتھ صفحہ ۵۶۹میںلکھا ہے۔لاکن غیر مذہب کی مذمت کرنا وغیرہ عیبوں کے باعث یہ سب اچھی باتیں معیوب ہو گئی ہیں۔ستیارتھ۵۷۰۔اپنے منہ سے اپنی تعریف کرنا اور اپنے ہی دہرم کو بڑا کہنا اور دوسرے کی مذمت کرنا جہالت کی بات ہے۔(آریہ صاحبان غور کرو اپنے عملدرآمد پر) ستیارتھ صفحہ ۵۷۳میں کہا ہے کہ جیسے جینی دوسرے کا اپکار(بھلا)نہیں چاہتے۔اگر دوسرے ان کا بھلا نہ چاہیں تو ان کے بہت کام بگڑ جاویں۔آریہ صاحبان کیا یہ آپ کا وطیرہ بھلائی کا ہے ؟ کیا آپ کے سوا دوسرے ملکی مسلمانوں کا بھلا چاہتے اور ان کی بہتری کے خواہش مند ہیں؟ وکلاء۔جج۔اہل طاقت غور کریں اور سوچیں !! ستیارتھ۵۷۴۔ہر ایک آدمی جیساہوتاہے وہ عموماً اپنے ہی مانند دوسرے کو سمجھتا ہے۔(دہرمپال اپنی گالیاں پڑھو جو تم نے مسلمانوں کے خدا،ان کی کتاب، ان کے رسول اور خود ان کو دی ہیں)کیا جَین مذہب میں کوئی بُرا آدمی اور نرک میں جانے والا نہیں۔سب ہی مکتی پاتے اور دوسرا کوئی نہیں پاتا۔کیا یہ بات پاگل پن کی نہیں؟ یہ کتنی بڑی بے انصافی کی بات ہے ! کیا جین مذہب سے باہرکوئی بھی آدمی راست گو نہیں؟کیا اس دھر ماتما آدمی کی تعظیم نہیں کرنا چاہیے ؟ ستیارتھ۵۷۶،۵۷۷۔جو دوسرے مذہب میں ہو۔اپنی تعریف بازاری عورت کا کام ہے۔دوسرے مذہب کو گالیاں دینا بڑے افسوس کی بات ہے۔(کیا تم نے، آریہ مسافر نے اور آخر خود دیانند نے مسلمانوں کے مقابل ان نصائح پر عمل کیااور کیا دفتروں،کچہریوں،ریاستوں اور معاملات میں تم نے کہیں رحم سے کام لیا؟میں تجربہ کار ہوں۔فیصلوں ، ملازمتوں، گواہیوں، سپارشوں پر نظر ثانی ضرور کرو۔) یہاں تک ہم نے لفظی جھگڑا بیان کیا ہے۔اب عملی نمونہ سن لو! اوّل تمہاری آرین قوموں نے مشہورضروری العمل کتابوں میں جھوٹ ملایا۔مثلاً منو کے دہرم شاستر جس کی عظمت تو یہ ہے کہ اگر اس کو ستیارتھ پرکاش سے الگ کر دیں تو وہ کتاب جسم بلا روح رہ جاوے۔آریہ مانتے ہیں کہ اِس میں وام مارگیوں کے تصرف سے شراب،زنا کی اجازت کے شلوک