نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 330
علمِ حدیث میں نا۔انا۔ح۔ت۔ن۔د۔ق۔م۔خ۔حدّثنا۔اخبرنا۔حول السند۔ترمذی۔نسائی۔ابوداؤد۔متفق علیہ۔مسلم و بخاری کے نشان ہؤا کرتے ہیں۔علمِ فِقہ میں صدہا علامات ہوتی ہیں۔ان کا ایک فقرہ ہے مسئلہ البئر حجط۔کنوئیں کے پانی میں ایک خاص امر میں اختلاف پر لکھا ہے کہ اِس وقت پانی نجس ہؤا ہے یا بر حال رہتا ہے یا طاہر و پاک رہتا ہے۔علمِ صَرف میں سؔ سمع یسمع کا نشان، ک کرم، ن نصر ،ض ضرب کا،ف فتح یفتح کا۔نحو میں ط عطف کا نشان ، حد تعلق کا، مف مفعول کا وغیرہ۔لغتؔ میں ۃبلدۃ کا،ج جمع کا، کاف کسرہ عین ماضی، فتح عین مضارع کا نشان ہے۔طِبّ میں مکد من کل واحد کا نشان جس کے معنٰی ہیں ہر ایک سے۔عقلی جواب قبل اِس کے کہ عقلی جواب بیان ہو ہمیں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ عقلاء کی بعض اصطلاحات بیان کی جاویں اور اِس وقت ہم صرف ویدک معتقدوں اور اسلامی فلسفوں کی اصطلاحات پر اکتفا کرتے ہیں۔علّتِ فاعلیہ یا فاعل کام کرنے والے کو کہتے ہیں۔سنسکرت میں اِس کا نام نمتکارن ہے، علّتِ مادیہ۔مادہ جس سے کوئی چیز بنتی ہے اس کو اپاوان کارن کہتے ہیں۔علّتِ صوریہ صورت۔شکل اور آلات وغیرہ کو سادہارن کارن کہتے ہیں۔علّتِ غایۃ اصل مقصود کو پریوجن کہتے ہیں مثلا اِس کتاب کا مصنّف و متکلّم فاعل ہے اور اس کا نمت کارن۔مصنّف کے علوم وغیرہ او پادان کارن ہے اور اس کے آلات و اسباب مثلاً قلم و سیاہی کاغذ وغیرہ سادہارن کارن ہیں۔اس کا اصل مقصود یعنی نافہموں کے سامنے صداقتوں کا اظہار اس کا پریوجن ہے۔دلائل کی چند اور اصطلاحیں (۱) الٰہی اقوال یا اچھے لوگوں کی بات سے سَند لینا سمعی دلیل ہے اور اس کو سنسکرت میں شَبد