نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 288
ہم تجھے اے پیغمبر! ان کی سزا دہی پر متوجہ کریں گے۔پھر یہ لوگ تیرے پڑوس میں نہیں رہنے پائیں گے۔ہر طرف سے دھکے دیئے جائیں گے۔جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے۔اب تم نے سمجھا کہ یہ قتل کے احکام ان بدمعاشوں کے متعلق ہیں جنہوں نے مومن ایماندار مردوں کی اور مومنہ ایماندار عورتوں کو بے و جہ دکھ دینا اپنا پیشہ بنا رکھا تھا۔اورپھر با ایں کہ ان کو سمجھایا گیا جب بھی فساداور بغاوت پر تلے رہے۔اگر تم کو ذرابھی عقل ہوتی تو تم سیاست ملکی کے احکام کی قدر کرتے مگر کیا کوئی تو بد معاش ہے یا نیچ ہے جو احکا م سیاست کو برا مانتا ہے؟ تم نے جو رسالہ لکھا ہے کیا یہ امن و چین کا خون کرنے والا نہیں ؟ایک دفعہ ایک بڑے آریہ نے مجھ سے کہا (البقرۃ:۱۹۲)بڑا خطرناک حکم ہے۔میں نے کہ آپ عربی جانتے ہیں ہیں۔یہاںھم سے کون لوگ مراد ہیں اگر آپ کو معلوم نہیں تو ذرا اس حکم کے پہلے دیکھو کیا لکھاہے۔(البقرۃ:۱۹۱) اور خدا کی راہ میں انہیں سے لڑو جو تم سے لڑیں اور حد سے مت بڑھو اللہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔اس جواب پر معترض مبہوت رہ گیا۔خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اپنے کلام کوایسے طور پر اورایسے اسلوب پر رکھاہے کہ کسی نکتہ چیں کاہاتھ اس پر پڑ نہیںسکتا۔یہ عجیب بات ہے کہ جس موقع پر عیب گیر اعتراض کی انگلی رکھتا ہے اسی جگہ معانی اوراسرار اورحکمتوں کاخزانہ ہوتاہے۔یہ نکتہ چینیاں بے جا اورلغو ثابت ہو جانے کے بعدآخر ایک وقت میںہزارہا سعید الفطرتوں کو ہدایت کی طرف کھینچ لائیںگے۔ہم مسلمان ان خردہ گیروں کواسلام کے خادم یقین کرتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں کہ یہ لوگ اسلام کے لئے راہ صاف کر رہے ہیں۔قومی، مذہبی، ملکی اور جوشیلے نو جوانوں میں جب بڑے بڑے اختلاف ہوتے ہیںاوریہ سمندر عام جوش مارتا ہے تو آخر اس اختلاف کاثمرہ وحدت ہی ہوتاہے۔سکھوں ،مرہٹہ نے اگر