نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 247 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 247

میں دیا ہے میں دل میں حضرت حق سبحانہٗ و تعالیٰ کے لئے سجدات شکر ادا کرتا ہوا بول اٹھا کہ ہاں فلاں مخدوم سندھی نے دیا ہے۔تب ہمارے مخالف ایسے مبہوت ہوئے کہ آئندہ سوالات جرح سے خاموش ہوگئے۔منشاء مخالف کا اس سوال جرح سے اتنا ہی تھا کہ میری حیثیت خداداد کو باطل کرے مگر اس داؤ میں خائب وخاسر ہو گیا۔میں نے اس شکریہ میں پچاس روپیہ مخدوم صاحب کو بذریعہ منی ا ٓرڈر واپس کردئیے۔اب سوچو مخدوم کا بیمار ہونا اس کو میرا پتہ لگنا اور سوروپیہ مجھے دینا اور اس کے اظہار کا موقع ایسے وقت پر ہونا کہ دشمن خاک میں مل جاوے کیسا تعجب انگیز ہے اور خدا پرست کے لئے کس طرح مقام شکر کا ہے۔حقیقی فلسفہ اور سائنس دانوں نے ثابت کردیا ہے کہ امور اتفاقی طور پر نہیں ہوا کرتے اس طرح کے واقعات جن کو میں نے اپنے متعلق بیان کیا ہے ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔خدا پرست ان کے وقوع سے شکر گزار ہوتے اور سجدات شکر کرتے ہیں۔غافلوں بدمستوں کے سامنے یوں ہی گزرجاتے ہیں کہ گویا وقوع پذیر ہی نہیں ہوئے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کا فلق بحر (دریا کا پھٹ جانا) انفجار العیون (بارہ چشموں کا پھوٹنا) اور ہمارے ہادی کامل رحمۃ للعالمین ﷺ کے دشمن بلکہ حق کے دشمنوں کاموقع موقع پرکامل شکست وہزیمت کھانا، آپ کا او ر ا ٓ پ کے پاک جانشینوں کا برغم الف اعداء ان پر ہمیشہ کامیاب ومظفر منصور ہونا اور بت پرستی ملک عرب سے استیصال کردینا یہ سب آیات بینات اور حجج نیّرہ اور سچے معجزات ہیں ان کے وقوع سے اللہ تعالیٰ کی ہمہ دانی اور ازل سے علم کامل اور قدرت کاملہ کا پتہ لگتاہے۔والحمد للّٰہ رب العالمین۔سوال نمبر۷۸۔فرشتے اہل اسلام کی طر ف سے اہل اسلام کی خاطر لڑنے آئے۔مسلمان اسپین اسٹریا سے نکالے گئے یورپ میں شکست کھائی افریقہ میں خستہ ہوئے۔ہندوستان کی سلطنت کھو بیٹھے وہاں فرشتے کیوںنہ آئے۔