نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 223 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 223

یہاں کی متواتر کہا نی پہلا دکی کیا بتا تی ہے؟ متواتر کا منکرا حمق اور ضدی ہو تا ہے اور اگر اس کے منکر ہو تو منو جی اور بھرگ سنگتا میں کیا لکھا ہے اسے پڑ ھو دیکھو ! اس کا ا دھیا ۸ شلو ک ۱۱۶۔’’ اگلے زمانے میں تبش رشی کے چھو ٹے بھا ئی نے ان کو عیب لگایا اورتبش رش نے اپنی صفائی کے واسطے آگ کو اٹھا یالیکن تمام دنیا کے عمل نیک وبد جاننے والے اگن نے رش کا ایک بال بھی نہ جلایا‘‘ کیا تم اب اپنی کسی نیکی پر اگنی کو اٹھا سکتے ہو یا اس شلوک کوغلط قرار دیتے ہو یا اس کی کوئی تاویل کرتے ہو یا یہ قول منّو کاوید کے کسی شلوک کے خلاف سمجھ کر رد کرتے ہو؟ اصل بات قرآن کریم میں اس قدر ہے۔۔۔۔(الانبیآء:۶۹تا۷۲) انھوں نے کہا اسے جلا دو اور اپنے معبودوںکی مدد کرو اگر کچھ کرنا ہے۔ہم نے کہا اے آگ ! تو ابراہیم پر سرد اور سلامتی ہو جا۔انھوں نے ابراہیم سے جنگ کرنی اور خفیہ تدابیر سے انھیں ایذا دینی چاہی مگر ہم نے انھیں زیاں کار کیا اور ہم نے ابراہیم اور لوط کو مبارک زمین میںپہنچایا۔اور دوسری جگہ ہے۔(العنکبوت:۲۵) اس کی قوم کا جواب یہی تھا کہ اسے مار ڈالو یا جلا دو۔سو خدا نے اسے آگ سے بچا لیا۔اور تیسری جگہ ہے۔(الصّافات :۹۸،۹۹)