نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 216
خدا نے انہیں متوجہ کرنا نہ چاہا۔۴۔جگا دینا۔اتانی اٰ تیان فبعثانی ای ایقظانی من النوم۔انہوںنے مجھے نیند سے جگایا۔۵۔بھڑک اٹھنا۔قرآن میں ہے۔(الشمس :۱۳) جب کہ انہیں کا بڑا بدبخت بھڑک اٹھا۔اور بعث بمقابلہ موت کے بھی ہوتا ہے اس لئے جس قدر موت کے معنی ہیں ان کے مقابلہ میں بعث ہوگا۔قرآن میں ہے۔(البقرۃ:۵۷) صاعقہ۔موت اور بعث کے معنی جب معلوم ہوئے اور سمجھے گئے تو معلوم رہے کہ صاعقہ کے دوطریق ہیں اس کا آنا اور گرنا۔اس میں تو نقصان کم پڑتا ہے اور ایک دوتین سے زیادہ آدمی اس میںنہیں مرتے۔دوسرا واپس ہونا اور اس کاانتشار کرنا۔واپسی کے وقت بجلی یا صاعقہ بہت لوگوں کودکھ دیتی ہے۔غشی ہوتی۔ہڈیاں ٹوٹتی۔نفاطات نکلتے ہیں۔اب ہر دوآیہ کریمہ کے معنی بتاتے ہیں مگر اتنا اور یاد رہے کہ یہا ں جناب الٰہی نے (البقرۃ:۵۶)فرمایا ہے اَھْلَکَکُمُ الصَّاعِقَۃ نہیں فرمایا۔پھر اس کے ساتھ بتایا ہے کہ اس کے کیا معنے کہ جنہیں بجلی یا صاعقہ نے پکڑا وہ دیکھ رہے تھے۔لہذا اس آیت شریفہ (البقرۃ:۵۶)کے یہ معنی ہوئے کہ تم کو خاص صاعقہ نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔خاص کا ترجمہ ہم نے لفظ اَلْ سے لیا ہے جو الصاعقہ کے پہلے ہے اور اس صاعقہ سے مراد وہ صاعقہ ہے جو رجعت کے وقت انتشار کرتی ہے اور دوسری آیت کریمہ کا ترجمہ یہ ہے (البقرۃ:۵۷)پھر اٹھایا ہم نے تم کو تمہاری موت کے بعد۔چونکہ موت کے معنی ہیں دکھ اور تکلیف بھی آیا ہے اس لئے یہاں تکلیف ہی لیں گے کیونکہ معانی مختلفہ میں حسب قرینہ وامکان معنی لئے جاتے ہیں۔