نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 142
اورگناہ کا یہ تعلق ہے کہ گناہ اخذ کا موجب ہے اور سپارش کنندہ کی سپارش اس کے نیک اعمال کے باعث الٰہی عفو(کھما)کو حاصل کر کے ایک قسم کے گناہ گار کے لئے تو کھما کو موجب ہوتی ہے اور سپارش کنندہ کے واسطے باعث اعزاز و امتیاز۔شفاعت ایک دعا بلکہ دعا سے بڑھ کر ایک درجہ کی پرارتھنا ہے۔پس اس پر انکار کیا؟ سوال نمبر۲۲۔’’آدم کی پیدائش اور اس کی روح افسانہ ہے‘‘ الجواب۔نادان !! انسان !ستیارتھ پرکا ش میں لکھا ہے صفحہ ۲۹۴۔۴۲سوال کے جواب میں۔سوال یہ ہے آغاز دنیا میں ایک یا کئی انسان پیدا کئے اور جواب یہ دیا ہے کہ کئی اور پھر دوسرے سوال کے جواب میں کہا ہے۔ابتدا دنیا میں انسان وغیرہ کی پیدائش بچپن جوانی یا بڑھاپے کی عمر میں ہوئی۔جواب جوانی کی عمر میں۔تم کو ایک بابا آدم کی پیدائش سے یہ دکھ پہنچا کہ ترک اسلام کیا اور یہاں تم کو آریہ سماج بننے کے لئے کئی آدم ماننے پڑے۔میں نے قرآن کریم کے مخالفوں اسلام کے مخالفوں کی نسبت یہ تجربہ کیا ہے کہ جوکوئی وہمی طور پر قرآن واسلام پر اعتراض کرتاہے اس نادان کو بڑھ چڑھ کر اعتراضوں کا نشانہ بننا پڑتا ہے جو وہمی طور پر کئے تھے۔مثلاً مسیحی لوگوں نے اعتراض کیا کہ فلاں جزوی اور فروعی مسئلہ میںقرآن واسلام بائبل کا خلاف کرتا ہے اس لئے ہم اسے نہیں مان سکتے۔اس کا نتیجہ ہم دیکھتے ہیں کہ تمام شریعت کو وہ لوگ لعنت اور پرانی چادر یقین کرکے از سر تا پا چھوڑ بیٹھے اور مثلاآریہ نے ہماری توحید پر اعتراض کئے تو ان کو ماننا پڑا ازلی ہستیاں تین ہیں،بلکہ پانچ بلکہ لاکھوں لاکھ۔اللہ تعالیٰ ازلی۔تمام روحیں ازلی غیر مخلوق تمام ذرات عالم روحوں کے صفات،افعال اور عادات۔ذرات کے صفات اور افعال او ر عادات بلکہ زمانہ اور اکاش بھی سب کچھ الٰہی مخلوق نہیں اورنگ زیب کو اپنے رسالہ میں بہت یاد کیا ہے مگر تمہاری قوم نے جہاں جہاں کچھ طاقت پائی ہے