نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 100 of 358

نُورْ الدِّین بجواب تَرکِ اسلام — Page 100

ان کی نسبت بڑی قوت سے یہ حکم نہیں لگاتا کہ یہ برباد ہونے والا گروہ ہے اسی طرح خداوند بزرگ کی حکیم کتاب فرماتی ہے۔خدا تعالیٰ کی ذات اس سے پاک ہے کہ اسے گمراہ کرنے والا کہا جائے اس لئے کہ خود قرآن مجید نے مختلف مقامات میں بڑے بڑے لوگوں اور شریروں کی نسبت کہاہے کہ وہ گمراہ اور ہلاک کرنے والے ہوتے ہیں چنانچہ دیکھو آیات ذیل کو۔(القصص :۱۶) بے شک وہ دشمن ہے ہلاک کرنے والا کھلاکھلا۔ُ(طٰہٰ :۸۰) فرعون نے اپنی قوم کو ہلاک کیا۔ُّ(طٰہٰ :۸۶)سامری نے انہیں ہلاک کیا۔(الانعام:۱۱۷) اگر تو زمین کے بہت عوام لوگوں کی بات مانے تو وہ خدا کے راہ سے ہٹا کر تباہ کر دیں۔(محمد :۲) جو لوگ منکر ہوئے اور اللہ کے راہ سے روکتے ہیں اللہ نے ان کے عمل باطل کر دئیے۔نیز اس کے علاوہ اضلال کے معنے ابطال اور اہلاک کے ہیں جیسے قرآن مجید کی اس آیت کریمہ سے ظاہر ہے (السجدۃ:۱۱) ترجمہ۔اور وہ کہتے ہیں کیا جب ہم زمین میں نابود ہو جاویں گے کیا ہمیں نئی پیدائش ملے گی۔اس صورت میں آیت مندرجہ سوال کے یہ معنے ہوئے’’اور جس کو وہ ہلاک کرتاہے تو اس کا کوئی اور والی وراہ نما نہیں پائے گا‘‘اور تمام گذشتہ آیات میں یہ معنے صاف ظاہر ہیں۔انصاف تو کر و جب کامل بدکار بدی کا پھل پانے جاتا ہے تو بدکار کو اپنی بدکاری کا لازم پھل پانے کے راستہ سے کون ہٹا سکتا ہے۔کیا اعمال سے ہُوا۔ہوا۔سور(جیسے آپ مانتے ہیں)پنڈت بن سکتا ہے اور کیا وید کے راہ نما اسے اپدیشک کر سکتے ہیں۔