نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 986 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 986

کر یہ دعا کرتے ہیں کہ خدایا انہیں رزق عطا فرما۔گویا اللہ تعالیٰ سے وہ اپنی اولاد کے لئے دو چیزیں مانگتے ہیں۔رزق بھی مانگتے ہیں اور امن بھی مانگتے ہیں اور مانگتے بھی وادئی غیر ذی زرع میں ہیں۔مگر پھر یہیں پر بس نہیں کرتے بلکہ ایک اور شرط یہ عائد کرتے ہیں کہ انہیں رزق اور امن تو ملے مگر تلوار سے نہیں۔حکومت اور طاقت کے زور سے نہیں بلکہ اس طرح کہ ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا ہو اور وہ خود بخود عقیدتمندانہ جذبات کے ساتھ ان کی طرف جھکتے چلے جائیں۔یہ کتنی سخت اور کڑی شرائط ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی دعا کے ساتھ لگائی ہیں۔اس کے مقابلہ میں وہ دو باتیں اپنی اولاد کی طرف سے بھی کہتے ہیں۔ایک یہ کہ وہ مکہ میں رہیں گے اور دوسری یہ کہ خدا تعالیٰ کی عبادت میں لگے رہیں گے اور وہ عبادت تو حید والی ہوگی۔اللہ تعالیٰ اسی دعائے ابراہیمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے الَّذِي أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعِ وَأَمَنَهُمْ مِّنْ خَوف۔اے مکہ والو! ہم نے وہ وعدہ پورا کر دیا جو ہم نے ابراہیم کے ساتھ کیا تھا۔اب کیا تمہارا فرض نہیں کہ تم بھی اس عہد کو پورا کرو جو تمہاری طرف سے تمہارے دادا ابراہیم نے کیا تھا۔یہ دو باتیں کہ وہ مکہ میں رہیں گے اور عبادت خدا میں لگے رہیں گے اور عبادت بھی تو حید والی کریں گے ہم نے نہیں کہی تھیں۔ہم نے ابراہیم سے یہ نہیں کہا تھا کہ اے ابراہیم چونکہ تو ہم سے دو چیزیں مانگ رہا ہے ہم بھی تجھ سے وہ چیزیں مانگتے ہیں۔ہم نے ابراہیم سے کوئی سودا نہیں کیا۔بلکہ ابراہیم نے خود کہا کہ اے میرے رب میں تجھ سے یہ سودا کرتا ہوں اور یہ سودا پیش کرنے والا تمہارا اپنا دادا تھا۔اس کی بات کی پیچ تو تمہیں زیادہ زیادہ ہونی چاہئے۔ہم پر ابراہیم نے جو ذمہ داری رکھی تھی وہ ہم نے پوری کر دی۔الذی أَطْعَمَهُمْ مِنْ جُوعٍ وَأَمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۔اس نے جہاں کہا تھا ہم نے رزق پہنچایا۔اس نے کہا تھا کہ میری اولاد کو وادی غیر ذی زرع میں رزق دیا جائے۔سوہم نے وادی غیر ذی زرع میں ہی تمہیں رزق دے دیا۔اس نے کہا تھا کہ انہیں اس خطرناک مقام پر امن دیا جائے۔سو ہم نے اس خطر ناک مقام پر تمہیں امن دے دیا۔اس نے کہا تھا کہ یہ رزق اور 986