نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 978 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 978

واقعہ میں زید آجاتا ہے تو وہ کہ سکتا ہے کہ دیکھو میری بات پوری ہوگئی۔لیکن ایک اور شخص جو چپ کر کے بیٹھا رہتا ہے اگر وہ کہے کہ دیکھو میری بات پوری ہوگئی زید آ گیا ہے تو ہر شخص اس پر بنے گا کہ تم نے یہ بات ہی کب کی تھی کہ زید کے آنے پر تم کہہ رہے ہو کہ میری بات پوری ہو گئی ہے۔اسی طرح خانہ کعبہ کی بنیا در کھتے وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک پیشگوئی کی۔اس میں یہ بھی ذکر تھا کہ خانہ کعبہ ترقی کرے گا۔یہ بھی ذکر تھا کہ لوگ یہاں حج اور طواف کے لئے آئیں گے۔یہ بھی ذکر تھا کہ لوگ یہاں بسیں گے۔یہ بھی ذکر تھا کہ اس گھر کو محفوظ رکھا جائے گا اور کوئی دشمن اسے تباہ نہیں کر سکے گا۔یہ بھی ذکر تھا کہ اس مقام پر رہنے والوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق دیا جائے گا۔جب ایک ایک کر کے تمام پیشگوئیاں پوری ہوگئیں اور پھر مخالف حالات میں پوری ہوئیں تو یقیناً ان پیشگوئیوں کا پورا ہونا اپنی ذات میں اس بات کا ثبوت ہے کہ خانہ کعبہ سے جو کچھ سلوک ہوا وہ اتفاقی نہیں تھا بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا۔لیکن دوسرے مندروں میں سے اگر کسی کو کوئی عزت حاصل ہوئی ہے تو چونکہ اس کے ساتھ کوئی پیشگوئی نہیں تھی اس لئے اسے محض اتفاق پر محمول کیا جائے گا۔پھر خانہ کعبہ کا محل وقوع دیکھ لو۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جہاں کوئی آبادی نہیں تھی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جس کے ارد گرد بھی میلوں میل تک کوئی آبادی نہیں تھی۔حضرت ابراہیم السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جہاں پانی موجود نہیں تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک ایسی جگہ یہ گھر بنایا جہاں کھیتی موجود نہیں تھی۔گویا خدائی ہاتھ کا ثبوت دینے کے لئے جو جگہ ہر قسم کی ترقی کے سامانوں سے محروم تھی وہی جگہ اس گھر کے لئے تجویز کی گئی۔پانی آبادی کے لئے ضروری ہوتا ہے مگر وہاں پانی نہیں تھا۔کھیتی آبادی کے لئے ضروری ہوتی ہے مگر وہاں کھیتی نہیں تھی۔شہر اور ارد گرد کی آبادی آبادی کے لئے ضروری ہوتی ہے مگر وہاں نہ کوئی شہر تھا اور نہ اس کے ارد گرد کوئی آبادی تھی۔ان حالات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر دنیا میں یہ اعلان 978