نُورِ ہدایت — Page 946
تھے۔ہاشم جو رسول کریم علیہ کے پڑدادا تھے انہوں نے تحریک کی کہ یہ لوگ شام اور یمن کا سفر کیا کریں تا کہ ان کی حالت اچھی ہو۔اگر ہم عربوں کی ایک نسل کی عمر 30 سال فرض کر لیں تو یہ تحریک رسول کریم علمی کی پیدائش سے کوئی سوا دو سو سال پہلے شروع ہوئی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اور رسول کریم لم کے زمانہ کے درمیان کوئی 22-23 سو سال کا فرق تھا۔۔۔۔اس میں سے یہ سوا دوسو سال نکال دیں تو باقی دو ہزار سال رہ گئے۔یہ دو ہزار سال کا زمانہ ایسا تھا جس میں قوم اپنا فرض بھولی رہی۔دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ جوں جوں اوپر کی نسل کی طرف جائیں ماں باپ کی یاد اولاد کے دلوں میں زیادہ قائم ہوتی ہے اور جوں جوں نیچے کی طرف آئیں یہ یاد کم ہوتی چلی جاتی ہے۔اس قاعدہ کے مطابق حضرت اسمعیل علیہ السلام کے زمانہ کا قرب جس نسل کو حاصل تھا اسے قدرتاً وہ وعدے زیادہ یاد ہونے چاہئے تھے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ہوئے۔کیونکہ دنیا میں طریق یہی ہے کہ باپ کو بیٹا زیادہ یادرکھتا ہے۔پوتا اس کی یاد کو کم کر دیتا ہے اور پڑپوتا اس کی یاد کو اور بھی کم کر دیتا ہے یہاں تک کہ چار پانچ پشت میں تو اولاد اپنے دادا پڑدادا کو بالکل ہی بھول جاتی ہے۔اور اگر اس سے بھی زیادہ عرصہ گزر جائے تو انہیں کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔چنانچہ تمام بڑی بڑی قوموں کو دیکھ لو سب میں یہی کیفیت نظر آئے گی۔مثلاً رسول کریم علی کی بیٹی حضرت فاطمہ کی اولاد نے جو ابتدا میں قربانیاں کیں وہ کتنی حیرت انگیز ہیں۔مگر اب سادات کو دیکھ لو ان کی کیا حالت ہے۔ان میں سے اکثر ایسے ملیں گے جو اسلام سے کوسوں دور ہیں حالانکہ وہ رسول کریم ملی کی بیٹی کی اولاد ہیں۔غرض طبعی طریق کو اگر مد نظر رکھا جائے تو شروع زمانہ میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام کا اثر ان کی قوم پر زیادہ ہونا چاہئے تھا اور دوہزار سال کے بعد تو ایسی جاہل اور ان پڑھ قوم میں سے ان کا ذکر بالکل مٹ جانا چاہئے تھا۔مگر ہوا یہ کہ عین دوہزار سال کے بعد پھر ان میں ایک تحریک پیدا ہوئی اور وہ اپنے دادا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے مگہ 946