نُورِ ہدایت — Page 74
حق تو نہیں ہے بلکہ محض رحمانیت الہی سے یہ فیض حاصل ہو سکتا ہے اور صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ الرَّحِيمُ کے بالمقابل ہے کیونکہ اس کا ورد کرنے والا رحیمیت کے چشمہ سے فیض حاصل کرتا ہے اور اس کے یہ معنے ہیں کہ اے رحم خاص سے دُعاؤں کے قبول کرنے والے! ان رسولوں اور صدیقوں اور شہیدوں اور صالحوں کی راہ ہم کو دکھا جنہوں نے دُعا اور مجاہدات میں مصروف ہو کر تجھ سے انواع و اقسام کے معارف اور حقائق اور کشوف اور الہامات کا انعام پایا اور دائمی دُعا اور تضرع اور اعمالِ صالحہ سے معرفت تامہ کو پہنچے۔رحیمیت کے مفہوم میں نقصان کا تدارک کرنا لگا ہوا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ اگر فضل نہ ہوتا تو نجات نہ ہوتی۔ایسا ہی حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ سے سوال کیا کہ یا حضرت! کیا آپ کا بھی یہی حال ہے؟ آپ نے سر پر ہاتھ رکھا اور فرمایا ہاں۔نادان اور احمق عیسائیوں نے اپنی نافہمی اور نا واقفی کی وجہ سے اعتراض کئے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ یہ آپ کی کمال عبودیت کا اظہار تھا جو خدا تعالیٰ کی ربوبیت کو جذب کر رہا تھا۔ہم نے خود تجربہ کر کے دیکھا ہے اور متعدد مرتبہ آزمایا ہے بلکہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ جب انکسار اور تذلیل کی حالت انتہا کو پہنچی ہے اور ہماری روح اس عبودیت اور فروتنی میں پہ نکلتی ہے اور آستانہ حضرت واہب العطا یا پر پہنچ جاتی ہے تو ایک روشنی اور نور اوپر سے اُترتا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک نالی کے ذریعہ سے مصفا پانی دوسری نالی میں پہنچتا ہے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حالت جس قدر بعض مقامات پر فروتنی اور انکساری میں کمال پر پہنچی ہوئی نظر آتی ہے وہاں معلوم ہوتا ہے کہ اُسی قدر آپ روح القدس کی تائید اور روشنی سے موئید اور منور ہیں۔جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی اور فعلی حالت سے دکھایا ہے یہاں تک کہ آپ کے انوار و برکات کا دائرہ اسی قدر وسیع ہے کہ ابدالآباد تک اسی کا نمونہ اور ظل نظر آتا ہے۔چنانچہ اس زمانہ میں بھی جو کچھ خدا تعالیٰ کا فیض اور فضل نازل ہو رہا ہے وہ آپ ہی کی اطاعت اور آپ ہی کے اتباع سے ملتا ہے۔میں سچ کہتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ کوئی شخص حقیقی نیکی کرنے والا اور خدا تعالیٰ کی رضا کو پانے والا نہیں ٹھہر سکتا اور 74