نُورِ ہدایت — Page 796
نکالا تھا اور آپ کے اصحاب کو طرح طرح کی بے رحمیوں سے قتل کیا تھا۔ان سب کو آپ نے لا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ کہہ کر یک لخت معافی دے دی۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ وَإِلَى رَبِّكَ فَارْغَبْ ضمیمه اخبار بدر قادیان 15 دسمبر 1912ء) یہ سنت انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی ہے کہ ظاہری کوشش اور محنت کے ساتھ باطنی عقد ہمت دعا اور توجہ الی اللہ ان کا کام ہوتا ہے۔حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام نے ظاہری محنتوں سے کعبہ کو بنا یا مگر ساتھ ہی عقدِ ہمت سے دعائیں بھی کیں۔رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (البقره 128) محنت ہو، کوشش ہو، مگر دعا نہ ہو۔کام نا تمام ہے۔اسی طرح صرف دعا ہی ہومگر کچھ محنت نہ ہو۔پھر بھی کام نا تمام ہے۔(ضمیمه اخبار بدر قادیان 15 اگست 1912ء (ماخوذ از حقائق الفرقان) حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یہ سورۃ مکی ہے۔پہلی سورۃ میں رسول کریم علیہ کے انجام کے اچھا ہونے کا ذکر تھا جیسا کہ فرمایا تھا وَلَلْآخِرَةُ خَيْرُ لكَ مِنَ الْأَوْلى۔ما اب سورۃ الانشراح میں اس دعویٰ کے متعلق کہ رسول کریم ملایم کا انجام اچھا ہوگا مزید روشنی ڈالی گئی ہے۔اور پچھلی سورۃ کے تسلسل میں اللہ تعالیٰ نے یہ مضمون بیان فرمایا ہے کہ انجام کے اچھا ہونے کی کچھ علامتیں ہوتی ہیں اگر وہ علامتیں کسی شخص میں موجود ہوں تو وقت سے پہلے لوگ قیاس کر سکتے ہیں کہ خدا تعالی کی مدد اس شخص کو حاصل ہے یعنی انجام تو جب ہوگا سو ہوگا۔محمد رسول اللہ علیم کے اچھے انجام کو بعض علامتوں کے ساتھ پہچانا بھی جاسکتا ہے۔چنانچہ چارا ہم علامتیں اللہ تعالیٰ اس جگہ بیان کرتا ہے۔اول یہ کہ انسان کو خود اپنے دعووں پر شرح صدر ہو۔796