نُورِ ہدایت — Page 794
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: إِنَّ فِي ذلِكَ لَبُهْرَى لِكُلِّ مَنْ تَزَكَّى، وَإِشَارَةٌ إِلى أَنَّ النَّاسَ إِذَا رَأَوُا فِي زَمَانٍ ضَرًّا وَضَيْرًا، فَيَرَوْنَ فِي آخَرَ نَفْعًا وَ خَيْرًا ، وَيَرَوْنَ رُخَا بَعْدَ بَلَا فِي الدِّينِ وَالدُّنْيَا سر الخلافة ، روحانی خزائن جلد 8 صفحه 361) اس میں ہر تزکیہ اختیار کرنے والے کے لئے بشارت ہے اور اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب لوگ ایک زمانہ میں دکھ اور تکلیف دیکھیں گے تو بعد میں وہ نفع اور بھلائی بھی دیکھیں گے اور دین و دنیا میں ابتلادیکھنے کے بعد خوشحالی کا زمانہ بھی دیکھیں گے۔( ترجمہ از مرتب) یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرنا چاہتا ہے اسی قدر اس کو زیادہ محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا۔اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے۔اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا اسی لئے فرمایا ہے۔احکم جلد 6 نمبر 45 مورخہ 17 دسمبر 1902 ، صفحہ 2) ساری لذت اور راحت دکھ کے بعد آتی ہے۔اسی لئے قرآن شریف میں یہ قاعدہ بتایا ہے اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا۔اگر کسی راحت سے پہلے تکلیف نہیں تو وہ راحت راحت ہی نہیں رہتی۔اسی طرح پر جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو عبادت میں لذت نہیں آتی ان کو پہلے اپنی جگہ سوچ لینا ضروری ہے کہ وہ عبادت کے لئے کس قدر دکھ اور تکالیف اُٹھاتے ہیں۔جس جس قدر دکھ اور تکالیف انسان اُٹھائے گا وہی تبدیل صورت کے بعد لذت ہو جاتا ہے۔میری مرادان دکھوں سے نہیں کہ انسان اپنے آپ کو بیجا مشقتوں میں ڈالے اور مالا يُطاق تکالیف اُٹھانے کا دعوی کرے؟ ہر گز نہیں۔الحکم جلد 7 نمبر 9مورخہ 10 مارچ 1903ءصفحہ 1) انسان کی زندگی کے ساتھ مکروہات کا سلسلہ بھی لگا ہوا ہے۔اگر انسان چاہے کہ میری 794