نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 716 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 716

لغت والوں نے جو اس کی تشریح کی ہے اُس سے میں سمجھتا ہوں کہ غالبا اس سے کائی مراد ہے کیونکہ وہ لکھتے ہیں نَبَاتُ فِي الْمَاءِ الْآجَنِ لَهُ عُرُوقُ لَا تَصِلُ إِلَى الْأَرْضِ سڑے ہوئے پانی میں ایک بوٹی ہوتی ہے جس کی جڑیں زمین میں نہیں جاتیں ، پانی میں ہی رہتی ہیں۔یہ ساری چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی غذائیت نہیں ہوتی اور جنہیں انسان چھوڑ جانور بھی نہیں کھاتے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَيْسَ لَهُمْ طَعَامُ إِلَّا مِنْ ضَرِيع کہ ان کو سوائے ضريع کے اور کوئی کھانا نہیں ملے گا۔قرآن کریم کا اسلوب بیان اور اُس کے الفاظ واضح کر رہے ہیں کہ ان کو کھانے کے لئے ضریع دیا جائے گا۔یعنی وہ ایسے ذلیل ہو جائیں گے کہ ایسی چیزیں کھانے پر مجبور ہوں گے جن کو جانور بھی نہیں کھاتے۔مطلب یہ ہے کہ ان کو ایسی ایسی ذلتیں اور رسوائیاں پہنچیں گی جن کو ادنی ادنی انسان بھی برداشت نہیں کر سکتے۔فتح مکہ کے بعد کئی آدمی جنگلوں میں بھاگ کر چلے گئے تھے اور وہیں مر گئے۔پھر بعض لوگ تھے جو بڑی بڑی تلخیاں برداشت کرنے کے بعد مکہ میں واپس آئے اور انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معافی مانگی جس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں معاف فرما دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ فتح کر لیا تو وہ لوگ جو کہا کرتے تھے کہ ہم مسلمانوں کو تباہ کر دیں گے۔ان کو کچل کر رکھ دیں گے۔اُن کو مٹادیں گے۔جب اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوں گے کہ مسلمان غلام اُن کے حاکم اور سردار بنے ہوئے ہیں تو خواہ وہ اعلیٰ درجہ کا کھانا ہی کیوں نہ کھاتے ہوں مگر وہ انہیں ضریع سے کم محسوس نہیں ہوتا ہوگا اور وہ کھانا اُن کے انگ میں نہیں لگتا ہوگا۔یہ ضروری نہیں کہ ضریع سے مراد یہاں حقیقتا شبرق گھاس ہی ہو بلکہ آگے جو تشریح کی گئی ہے کہ لَا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِنْ جوع وہ کھانا نہ اُن کو موٹا کرے گا اور نہ اُن کی بھوک کو دور کرے گا یہ اُن کی بدحواسی کی حالت کو ظاہر کر رہا ہے۔پس بالکل قرین قیاس ہے کہ ضریع کا ذ کر استعارہ ہے۔وہ روزانہ دیکھتے تھے کہ مسلمان ترقی کر رہے ہیں اور ہم شکست کھاتے جا رہے ہیں۔پھر ہر لڑائی میں انہیں خبریں پہنچتی تھیں کہ آج فلاں رئیس مر گیا ہے۔آج فلاں سردار مر گیا ہے یا 716