نُورِ ہدایت — Page 692
کرنے کے لئے ہیں۔جبکہ مسیح موعود واحد و یگانہ خدا کی طرف بلا رہے ہیں اور اس تعلیم پر عمل کروانے کے لئے دعوت دے رہے ہیں جو اللہ تعالی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اتاری اور جو حقیقی اسلامی تعلیم ہے۔ایک طرف تو بعض طبقوں کی طرف سے پریشان ہو کر یہ دعوے بھی کئے جا رہے ہیں کہ کسی مصلح کی ضرورت ہے۔مسلمانوں میں خلافت کی ضرورت ہے۔اور دوسری طرف اس چیز کو ٹھیک کرنے کے لئے جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سامان پیدا فرمائے ہیں اور معالج بھیجا ہے تو اس کو قبول کرنے کے لئے یہ لوگ تیار نہیں ہیں۔رض پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدى (الاعلیٰ 4)۔جس نے طاقتوں کا اندازہ کیا اور ہدایت دی۔اس کا تعلق بھی پہلی آیت سے ہے۔اس کے بارے میں حضرت مصلح موعود نے فرمایا کہ قدَّدَ فَهَدی کے دو معنی ہوں گے۔جیسا کہ پچھلی آیت میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ انسان میں ترقی کی استعداد رکھی گئی تھی اور اسے کامل القویٰ بنایا گیا تھا اس لئے خدا تعالیٰ نے اس کی طاقتوں کا اندازہ کر کے اس کے متواتر ترقی کرتے چلے جانے کے ذرائع مہیا کئے ہیں۔یعنی پہلے پیدائش کو اس تعلیم اور طاقت کے مطابق کیا پھر تعلیم بھجوائی۔یعنی جوں جوں ذہنی اور جسمانی طاقتوں نے ترقی کی اللہ تعالیٰ نے اس کے مطابق ہدایت کے سامان پیدا فرمائے۔اور دوسرے معنے یہ ہیں کہ جب بھی انسان بج ہوا اللہ تعالی نے اس کی ضرورت کے مطابق ہدایت بھیجوا دی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 8 صفحہ 405-406 مطبوعد ربوہ ) اور جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ یہ ہدایت کامل طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ نازل فرمائی تا کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حقوق کا بھی صحیح ادراک کر سکے اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرے۔پس جب یہ ہدایت آگئی تو اس کے مطابق ہی اب ایک مومن کو چلنا ہے۔اور اگر سمجھ نہیں آتی تو پھر جو امام اور جو معالج اللہ تعالی نے بھیجا ہے اس کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔اسی میں دنیا کی بقا ہے۔جس کے لئے پہلی آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے طریق بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی عبادت کی ضرورت ہے اور اس بھیجے ہوئے کو ماننے کی ضرورت ہے۔اگر سمجھ نہیں آتی تو پھر اللہ تعالیٰ سے خالص ہو کر مدد مانگی جائے کہ اللہ تعالیٰ صحیح 692