نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 669 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 669

اسی مضمون کے مطابق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہر انسان کے ارد گرد ہم نے ایک حد بندی قائم کر دی ہے جس میں سے وہ باہر نہیں نکل سکتا۔یہی وہ حد بندی ہے جسے ماحول کہتے ہیں۔گویا قدر فهدى سے اللہ تعالیٰ نے اِس طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان اپنے ماحول کے مطابق چلتا ہے اُس نے صرف قوی ہی پیدا نہیں کئے بلکہ ان قویٰ کے ظہور کے لئے ایک ماحول بھی پیدا کیا ہے۔اس ماحول کو دیکھو اس کے مطابق ہی قوی ظاہر ہو سکتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے جب بھی ہدایت نازل کی ہے ماحول کو مد نظر رکھا ہے۔یہ ماحول مادی بھی ہوتا ہے اور دینی بھی۔مادی ماحول تو حیوان اور انسان سب کے لئے ہے مگر دینی ماحول یعنی شریعت صرف انسان کے لئے ہے اور پھر شریعت بھی مادی ماحول کے مطابق ہوتی ہے۔یہی مضمون اللہ تعالیٰ نے قدَّدَ فَهَدَی میں بیان کیا ہے اور بتایا ہے کہ تم اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھو کہ تعلیم ہمیشہ ماحول کے مطابق اُترے گی۔اگر ماحول کے مطابق اللہ تعالیٰ کی طرف سے تعلیم نازل نہ ہو تو خواہ وہ کتنی ہی اعلیٰ ہو انسان کو بلاک کرنے والی ہوگی اُسے ترقی کی منازل کی طرف لے جانے والی نہیں ہوگی۔وَالَّذِي أَخْرَجَ الْمَرغى مرغی اس گھاس پھونس کو کہتے ہیں جس کو جانور کھاتا ہے۔اور مرغی چراگاہ کو بھی کہتے ہیں ( اقرب) اِس آیت میں مرغی سے مراد گھاس پھونس ہے۔چراگاہ مراد نہیں۔فَجَعَلَهُ عُمَّاءَ أَحْوَى۔ا تقاء۔یہ لفظ خُفاء اور عُقاء دونوں طرح بولا جاتا ہے اور اس کے معنے رڈی چیز کے ہوتے ہیں۔ہر قسم کی چیز جورڈی ہو جائے اُس کے متعلق کہتے ہیں وہ خُفاء ہوگئی اور محتاج کے معنی جھاگ کے بھی ہوتے ہیں اور غقا کے معنے بلاک ہونے والی چیز کے بھی ہوتے ہیں۔اور غقا درخت کے ان پتوں کو بھی کہتے ہیں جو گر کرسٹر جاتے ہیں۔اور جب بارش کا پانی یا سیلاب آتا ہے تو باغوں میدانوں اور گلیوں میں سے اُن سڑے ہوئے پتوں کو پانی اُٹھا 669