نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 661 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 661

ہوتی ہے۔میرا جی چاہتا ہے کہ تم باہر والوں کے لئے نمونہ بنو۔تمہارا لین دین، تمہاری گفتار و رفتار، تمہارا چال چلن ( تمہارا اسر، وعلن ) تمہارا اٹھنا بیٹھنا۔تمہارا کھانا پینا ایسا ہو کہ دوسرے لوگ بطور اُسوہ حسنہ اسے قرار دیں۔تم اللہ کو علیم و خبیر و بصیر مان کر اپنے آپ کو بدیوں سے رو کو۔یہ بھی ایک قسم کی تسبیح ہے۔تم ایسا کرو گے تو دوسرے لوگوں کا ایمان بھی بڑھے گا۔(ماخوذ از حقائق الفرقان ) حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: افضل 23 جنوری 1913 ، صفحہ 12-13) سیخ امر کا صیغہ ہے اور سبح کے معنے ہوتے ہیں اُس نے اُسے نقص سے پاک قرار دیا (اقرب) پس سیع کے معنے ہوئے نقص سے پاک قرار دے۔رب کے معنے ہوتے ہیں وہ ذات جو تدریجی طور پر ترقی دیتے ہوئے کمال تک پہنچاتی ہے۔گویا پیدا کرنا اور پھر تدریجی طور پر ترقی دیتے ہوئے کمال تک پہنچانا یہ سب کچھ رب کے مفہوم میں شامل ہے۔سبح اسم ربک الاعلی کے معنے ہیں توسیع کر اپنے رب کے نام کی جو اعلیٰ ہے۔یا اپنے رب کے اعلی نام کی تسبیح کر۔یہاں اعلی صفت رب بھی ہو سکتا ہے اور صفت اسم بھی۔یعنی اپنے رب کے اسم کی جو اعلی ہے تسبیح بیان کر۔اور یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں کہ اپنے اعلیٰ رب کے نام کی تسبیح بیان کر۔رب کی صفت قرار دینے کی صورت میں اس کے یہ معنے ہوں گے کہ تیرا رب جو اعلیٰ ہے یعنی تیرا رب جس کی ربوبیت سب سے بلند اور ارفع شان رکھتی ہے اُس کی تسبیح بیان کر۔اور اسم کی صفت ہونے کی صورت میں آیت کے یہ معنی ہوں گے کہ تو اپنے رب کے سب سے بلند نام کی تسبیح بیان کر اور مطلب یہ ہوگا کہ تو اپنے رب کا نام دنیا میں بلند کر۔پہلی کتابوں کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کبھی اللہ تعالیٰ کو باپ کہ دیا جاتا۔کبھی اسے ماں کہہ کر پکارا جاتا۔کبھی کسی نبی کو خدا کا بیٹا کہہ دیا جاتا۔کبھی کسی نبی کو خدا کا اکلوتا قرار دے دیا جاتا ہے۔اس کے یہ معنے نہیں تھے کہ اللہ تعالیٰ کے بھی بیٹے ہیں یا اللہ تعالیٰ 661