نُورِ ہدایت — Page 644
دور میں کسی بھی قسم کے امن کی ضمانت نہیں تھی۔اللہ تعالیٰ کے اس امن والے گھر کی حفاظت بھی خدا تعالیٰ نے ہمیشہ خود فرمائی ہے۔قرآن کریم میں وہ واقعہ درج ہے جس میں اصحاب فیل سے محفوظ رکھا تھا۔اس لشکر کے سامنے اس وقت اہل مکہ کی کوئی حیثیت نہ تھی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت فرمائی۔دنیا کو یہ بتا دیا کہ یہ امن والا گھر میراگھر ہے۔اس کو دنیا کے امن کے نشان کے طور پر میں نے بنایا ہے۔اس کی طرف جو بھی ٹیڑھی نظر سے دیکھے گا اس کی اپنی سلامتی اور امن کی کوئی ضمانت نہیں ہوگی۔پھر یہ دوسری آیت کی مثال دیتے ہیں کہ وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا۔وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيْمَ مُصَلَّى وَعَهِدْنَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَعِيلَ أَن طَهَّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقرة 126) اور جب ہم نے اپنے گھر کولوگوں کے بار بار اکٹھا ہونے کی اور امن کی جگہ بنایا اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو اور ہم نے ابراہیم اور اسماعیل کو تاکید کی کہ تم دونوں میرے گھر کے طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے خوب گھر کو پاک صاف بناؤ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس لفظ آمنا کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں وَإِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِلنَّاسِ وَآمَنَّا که آمنا، یہ مقام امن والا ہوگا۔اس کے ایک معنے یہ ہیں یعنی اسے دوسروں سے ہمیشہ محفوظ رکھا جائے گا۔دوسرے معنے یہ ہیں کہ یہ مقام دوسروں کو امن دینے والا ہوگا اور چونکہ حقیقی امن اطمینان قلب سے حاصل ہوتا ہے۔اس لئے آمنا کے تیسرے معنے یہ بھی ہیں کہ اطمینان قلب بخشنے والا۔امن کے ذکر کے بعد اس آیت میں مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّی کا جوذ کر آیا ہے اس لئے کہ اے مسلمانو! یہ لوگوں کے امن کی ضمانت بھی ہے اور ابراہیمی قربانیوں اور عبادتوں میں اس کا امن چھپا ہوا ہے۔اس پر عمل کر کے ہی تم امن حاصل کر سکتے ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم 644