نُورِ ہدایت — Page 581
پس وہ خدا جس نے بدر میں مسلمانوں کی تائید و نصرت کی تھی ، اس نے بعد میں مسلمانوں کو اپنی تائید سے نوازا۔وہ فرشتے جنہوں نے یہ عہد کیا تھا : نَحْنُ أَوْلِيَتُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ۔(حم السجدة32) انہوں نے پھر اس دنیا کی زندگی میں صحابہ کا ساتھ نہیں چھوڑا۔یہی مضمون بغیر ظاہری نظاروں کے یا بغیر کشوف کے یا بغیر رؤیا کے بھی چلتا ہے لیکن اس قسم کے واقعات جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا انفرادی طور پر بہت زیادہ نہیں ملتے لیکن اس کے باوجود مجھے یقین ہے کہ بکثرت ایسے واقعات مسلسل رونما ہور ہے ہوں گے کیونکہ جماعت کی جو تاریخ بن رہی ہے اس میں ہم اس کثرت کے ساتھ فرشتوں کا نزول دیکھتے ہیں کہ یہ ناممکن ہے کہ صحابہ کے نقش قدم پر چلنے سے یہاں تو بکثرت فرشتے نازل ہو رہے ہوں اور نعوذ باللہ من ذالک صحابہؓ کی زندگی میں بکثرت نازل نہ ہوئے ہوں۔کوئی ایسا ملک نہیں ہے کہ جہاں احمدیت کی تاریخ بن رہی ہے اور اس قسم کے واقعات وہاں پھیلے نہیں پڑے، بکھرے نہیں پڑے، جیسے کسی نے کہا ہے : ع چمن میں ہر طرف بکھری پڑی ہے داستاں میری اسی طرح احمدیت کے چمن میں یہ ایمان افروز نظارے ہر جگہ بکثرت دکھائی دیتے ہیں اور دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں جہاں احمدیت داخل ہوئی ہو اور ثبات قدم کے عظیم الشان نمونے اس نے نہ دکھائے ہوں اور پھر اللہ تعالیٰ کے یہ وعدے بڑی شان کے ساتھ پورے نہ ہوئے ہوں کہ : تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ۔(حم السجدة 31)۔۔۔فرشتوں کے اس قسم کے نزول کے بے شمار واقعات ہیں جو بڑے ہی عظیم الشان اور دلچسپ ہیں اور احمدیت کی تاریخ کا بہت قیمتی سرمایہ ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔تتنالُ۔۔581