نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 528 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 528

پڑھتا ہے دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا۔یہ بھی اس امر کا ثبوت ہے کہ دجال اور یا جوج ماجوج سے مراد مسیحی فتنہ ہے۔کیونکہ ان آیات میں اسی قوم کا ذکر ہے۔جیسا کہ ہر انسان جوان آیتوں کو سمجھ کر پڑھے معلوم کرسکتا ہے۔(ماخوذ از تفسیر کبیر ) حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ خطبہ جمعہ فرمودہ 21 دسمبر 1979ء میں سورۃ الکہف کی آیات 104 تا 107 کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سورۃ کہف کی ان آیات میں دس باتیں بیان کی گئی ہیں۔پہلی بات یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں ان لوگوں کے متعلق بتائیں جو سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں اپنے اعمال کے لحاظ سے۔انسان مختلف قسموں میں بٹ جاتے ہیں اپنے اعمال کے لحاظ سے۔ایک وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں، ایک وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ کا عرفان نہیں رکھتے ، ایک وہ ہیں جو زندہ مذہب سے تعلق رکھنے والے ہیں، ایک وہ ہیں جن کا زندہ مذہب سے تعلق نہیں ہوتا ، ایک وہ ہیں جو دنیوی لحاظ سے شریفانہ زندگی گزارتے ہیں اور ایک وہ ہیں جو دنیوی معیار کے مطابق بھی بدزندگی گزارنے والے ہیں۔ہر شخص اپنے رب سے اپنے اعمال کے مطابق بدلہ پاتا اور جزا حاصل کرتا ہے اور وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کے پیار کو اپنی قوتوں اور استعدادوں کے دائرہ کے اندر اپنی اس سعی کے مطابق جو وہ اس دائرہ میں اپنے خدا کے حضور مقبول سعی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں اس کے مطابق وہ بدلہ پاتے ہیں۔وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والے ہیں وہ خدا تعالیٰ کے غضب کو حاصل کرتے ہیں اور قہر کی آگ ان کے حصہ میں ہے لیکن ان میں بھی فرق ہے۔کسی پر اللہ تعالی کم غضب نازل کرتا ہے کسی پر زیادہ کرتا ہے۔یہاں یہ مضمون اس بات سے شروع کیا گیا ہے کہ جوسب سے زیادہ گھاٹا پانے والے ہیں ان کے متعلق ہم تمہیں کچھ بتانے لگے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ سب سے زیادہ گھاٹا پانے والے اپنے اعمال کے لحاظ سے وہ ہیں کہ جو ایک تو خدا کو پہچانتے نہیں، اللہ تعالیٰ پر ایمان 528