نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 523 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 523

جو کسی زمانہ میں وہ کروڑ با مسلمان جو توحید پر قائم ہیں وہ بھی پھر طریق شرک اور مخلوق پرستی کا اختیار کرلیں گے تو بے شک ایسی صورتوں میں دوسری شریعت اور دوسرے رسول کا آنا ضروری ہوگا۔مگر دونوں قسم کے فرض محال ہیں۔قرآن شریف کی تعلیم کا محرف مبذل ہونا اس لئے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے اِنا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِكرَ وَإِنَّالَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: 10) برائین احمد یہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 101 102 حاشیہ نمبر 9) قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يُوحَى إِلَى انَّمَا الهُكُمْ إِلَهُ وَاحِدٌ فَمَنْ كَانَ يَرْجُو القَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّةِ أَحَدًا فَمَن كَانَ يَرْجُو القَاءَ رَبِّهِ الخ جو شخص خدا کی ملاقات کا طالب ہے اسے لازم ہے کہ ایسا عمل اختیار کرے جس میں کسی نوع کا فساد نہ ہو اور کسی چیز کو خدا کی بندگی میں شریک نہ کرے۔( براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 239 حاشیه در حاشیہ نمبر 3) جو شخص خدا تعالیٰ کا دیدار چاہتا ہے چاہئے کہ وہ ایسے کام کرے جن میں فساد نہ ہو۔یعنی ایک ذرہ متابعت نفس اور ہوا کی نہ ہو۔اور چاہئے کہ خدا کے ساتھ کسی چیز کو بھی شریک نہ کرے بنفس کو ، نہ ہوا کو اور نہ دوسرے باطل معبودوں کو۔ست بچن، روحانی خزائن جلد 10 صفحه 230) مَنْ كَانَ يَرْجُوا لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَ لَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبَّةٍ أَحَدًا۔یعنی جوشخص چاہتا ہے کہ اسی دنیا میں اس خدا کا دیدار نصیب ہو جائے جو حقیقی خدا اور پیدا کنندہ ہے پس چاہئے کہ وہ ایسے نیک عمل کرے جن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو۔یعنی عمل اس کے نہ لوگوں کے دکھلانے کے لئے ہوں، نہ اُن کی وجہ سے دل میں تکبر پیدا ہو کہ میں ایسا ہوں اور ایسا ہوں۔اور نہ وہ عمل ناقص اور نا تمام ہوں۔اور نہ اُن میں کوئی ایسی بد بو ہو جو محبت ذاتی کے برخلاف ہو۔لہ چاہئے کہ صدق اور وفاداری سے بھرے ہوئے ہوں اور ساتھ اس کے یہ بھی چاہئے کہ ہر ایک قسم کے شرک سے پر ہیز ہو۔نہ سورج ، نہ چاند، نہ آسمان کے ستارے، نہ ہوا، نہ آگ، نہ 523