نُورِ ہدایت — Page 513
ی کسی چیز کے متعلق باوجود علم کے خلاف واقعہ خبر دینا کذب کہلاتا ہے اور یہ لفظ صدق کے مخالف معنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔وَسَوَاءُ فِيهِ الْعَبَدُ وَالْخَطَاء اور اس صورت میں جان بوجھ کر خلاف حقیقت بات کہنا یا غلطی سے کہنا دونوں کذب میں شامل ہوتے ہیں۔(اقرب) پہلے کتاب کا کام انذار بتایا۔پھر مومنوں کو بشارت دینا اس کا کام بتایا۔اس کے بعد پھر انذار کا ذکر کیا۔اور یہ انذار خاص اس قوم کے متعلق بتایا جو اللہ تعالیٰ کا بیٹا بناتے ہیں۔اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیوں انذار کا ذکر اکٹھا نہ رکھا اور بشارت کا ذکر بعد میں نہ رکھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس ترتیب سے قرآن کریم نے ان زمانوں کا بھی اظہار کر دیا ہے جن میں قرآن کریم کا انذار تبشیر اور پھر دوسرا اندار ظاہر ہوگا۔پہلے اندار سے ملنے والوں اور دوسری تمام ان اقوام کا اندار مراد ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کی مخالف تھیں۔چنانچہ قرآن کریم کے اس اندار کے نتیجے میں وہ اقوام تباہ کی گئیں۔اس کے بعد مومنوں کی بشارت کا ذکر کیا۔چنانچہ مخالفین اسلام کی تباہی کے بعد مسلمانوں کو انعام ملے اور مَاكِثِينَ فِيهِ ابدا کے حکم کے ماتحت مسلمانوں نے صدیوں تک دنیا میں حکومت کی۔اس کے بعد صرف مسیحی قوم کے اندار کا ذکر کیا جس سے اس طرف اشارہ ہے کہ اسلامی ترقی کے بعد پھر مسیحیت زور پکڑے گی اور دنیا پر اس طرح چھا جائے گی کہ گویا وہی ایک قوم اسلام کے مخالف رہ جائے گی۔اس وقت قرآن کا انذار خصوصیت سے مسیحی اقوام کے لئے ہوگا۔اگر اس طرح اندار کو دو ٹکڑوں میں تقسیم نہ کیا جاتا اور مسلمانوں کے انعامات کو درمیان میں بیان نہ کیا جاتا تو یہ لطیف معنے جو عذاب کے اوقات اور آئندہ زمانے کے سیاسی تغیرات کو بھی ظاہر کر رہے ہیں ، پیدا نہ ہو سکتے تھے۔كَبُرَتْ كَلِمَةٌ۔اس میں بتایا ہے کہ نہایت گستاخی کا عقیدہ ہونے کے علاوہ اس عقیدے کو تو انسانی عقل بھی رد کرتی ہے۔یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ایک انسان پھانسی پر چڑھایا جائے اور پھر وہ خدا کا بیٹا کہلائے۔513