نُورِ ہدایت — Page 455
ذکر ہے۔ناراضگی تو خدا تعالیٰ کی چھوٹی بھی برداشت نہیں ہوتی لیکن چھوٹی تکلیف برداشت کر لی جاتی ہے۔پس روحانی سزا میں یہ دعا ہے کہ ہمیں تیری کسی ناراضگی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔مگر جب دنیاوی تکالیف کا ذکر آیا تو وہاں یہ دعا سکھائی کہ مجھے چھوٹے موٹے ابتلاؤں پر اعتراض نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ پھولوں کی سیج پر چلتا رہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی آزمائش کے لئے فرمایا ہے کہ میں امتحان لوں گا۔البتہ وہ ابتلا جو دنیا میں تیری ناراضگی کا موجب نہیں ہیں اور دنیا میں آتے رہتے ہیں، اُن کے بارے میں میری یہ دعا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ ابتلا میری طاقت سے بالا ہو۔مومن ابتلاؤں کی خواہش نہیں کرتا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں مومن کو آزما تا ہوں، اس لئے آزمائش کو آسان کرنے کی دعا بھی سکھا دی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 659) اور پھر فرمایا کہ یہ دعا کرو کہ واغف عنا۔مجھ سے عفو کر اور بد نتائج سے مجھے بچالے وَاغْفِر لنا جو غلط کام میرے سے ہو گئے ہیں اُن کے نتائج اور اثرات سے مجھے بچالے۔میرے غلط کاموں پر پردہ ڈال دے اور یوں ہو جائے جیسے میں نے غلط کام کیا ہی نہیں۔عفو کے معنی رحم کے بھی ہوتے ہیں اور جو چیز کسی انسان سے رہ جائے ، اُس کا ازالہ اسی صورت میں ہوتا ہے کہ وہ مہیا کر دی جائے۔پس وَاعْفُ عنا میں یہ فرمایا کہ میرے عمل میں سے جو چیز رہ گئی ہے، یا میرے کام میں جو چیز رہ گئی ہے، تو اُسے اپنے رحم اور فضل سے مہیا فرما دے۔وارحمنا۔یعنی جو بھی میرے سے غلطیاں ہوئی ہیں اور میری ترقی کے راستے میں روک ہیں یا میری وجہ سے جماعتی ترقی پر اثر انداز ہو سکتی ہیں اُن غلطیوں کے متعلق مجھ پر رحم کر اور ترقیات کے راستے میں تمام روکوں کو دور فرمادے۔انت مؤلنا۔کہ تو ہمارا مولیٰ ہے۔ہمارا آتا ہے۔لوگوں نے ہماری کمزوریاں تیری طرف منسوب کرنی ہیں۔آج دنیا میں ایک ہی جماعت ہے جس کا یہ دعویٰ ہے کہ ہم جماعت ہیں۔کوئی فرد جماعت بھی جب کوئی حرکت کرتا ہے تو اُس کا اثر مجموعی طور پر بعض دفعہ جماعت پر ہی پڑ جاتا ہے۔پس اے خدا! جب لوگوں نے کمزور یاں تیری طرف منسوب کرنی 455