نُورِ ہدایت — Page 430
الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتاه - یعنی جس نے رات کے وقت سورۃ بقرہ کی دو آیات پڑھیں تو وہ دونوں آیات اس کے لئے کافی ہوگئیں۔(بخاری کتاب التفسير - باب فضل سورة البقرة) اللہ تعالی کی پناہ میں آنے اور اس کا رحم اور بخشش مانگنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا تو پھر ایمان میں یہ ترقی ہوتی ہے جو کافی ہوتی ہے اور عبادات اور نیک اعمال کی طرف پھر توجہ پیدا ہوگی۔ورنہ اگر یہ خیال ہو کہ صرف آیات پڑھ لینا کافی ہے تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمانے کے بعد کہ کسی نفس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالا جاتا پھر یہ کیوں کہا کہ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ یعنی انسان اگر اچھا کام کرے گا تو اس کا فائدہ اٹھائے گا اور اگر بُرا کام کرے گا تو نقصان اٹھائے گا۔صرف آیت کے یا ان آیات کے الفاظ دہرا لینے سے تو مقصد پورا نہیں ہوتا بلکہ یہاں توجہ اس طرف کروائی کہ اپنی عبادتوں اور اپنے اعمال پر ہر وقت نظر رکھنی پڑے گی اور جب یہ تو جہ ہو گی تو اللہ تعالیٰ کے پیار کی نظر بھی اپنے بندہ پر پڑے گی۔اللہ تعالیٰ کے بندہ کی ایمان میں ترقی اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کر رہی ہوگی اور اس کی بخشش کا سامان کرے گی نہ کہ پھر جس طرح عیسائی کہتے ہیں اس کو کسی کفارہ کی ضرورت ہوگی۔پس روزانہ پھر جس طرح یہ آیت پڑھنے سے نیکیوں کے کمانے کی طرف توجہ رہے گی۔ایک مومن رات کو جائزہ لے گا کہ کون کون سی نیکیاں میں نے کی ہیں اور کون کون سی برائیاں کی ہیں۔پھر اگر نیکیوں کی زیادہ تو فیق ملی ہوگی ، اگر شام نے یہ گواہی دی ہو گی کہ تم نے ڈرتے ڈرتے دن بسر کیا تو شکر گزاری کے جذبے کے تحت ایک مومن پھر اللہ تعالیٰ کے حضور مزید جھکے گا اور ایک مومن کو کیونکہ نفس کے دھو کے کا بھی خیال رہتا ہے اس لئے وہ پھر خدا تعالیٰ سے یہ عرض کرتا ہے کہ اگر میرا جائزہ جوئیں نے شام کو لیا ہے نفس کا دھوکہ ہے تو پھر بھی مجھ پر رحم کر اور بخش دے اور مجھے نیکیوں کی توفیق دے اور اگر کھلی برائیاں سارے دن کے اعمال میں نظر آ رہی ہیں تو پھر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور بخشش اور رحم کے لئے ایک مومن جھکتا ہے۔430