نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 427 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 427

ہے کہ اللہ پر ایمان لاؤ۔اس کے فرشتوں پر ایمان لاؤ۔اس کی کتابوں پر ایمان رکھو۔اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو۔کیونکہ یہ ایمان میں کامل ہونے کا ذریعہ ہیں اور یہ ایمان صرف زبانی اقرار نہیں ہے بلکہ عقیدے کے لحاظ سے بھی اور عمل کے لحاظ سے بھی ضروری ہے اور یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان اُس وقت مضبوط ہوتا ہے جب تقویٰ میں ترقی کی طرف قدم بڑھ رہے ہوں۔اس کے فرشتوں پر ایمان اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یقین ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتوں کی ذمہ داریاں متروک نہیں ہو گئیں۔بلکہ آج بھی وہ اپنے مفوّضہ فرائض ادا کر رہے ہیں۔اسی طرح پہلے انبیاء پر جو کتابیں اتریں وہ بھی یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے تھیں۔لیکن یہ اور بات ہے کہ زمانے نے ان میں بگاڑ پیدا کر دیا۔لیکن بہر حال وہ کتابیں ان رسولوں پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتری ہوئی کتابیں تھیں۔خدا تعالیٰ نے ان کتابوں کی بھی ہر اچھی تعلیم قرآن کریم میں محفوظ کر کے پہلی کتب کی تصدیق بھی کر دی اور قرآن کریم کی حفاظت کی ضمانت دے کر آئندہ کے لئے اس شرعی کتاب کے تاقیامت ہر قسم کی تحریف سے پاک رہنے کا اعلان بھی فرما دیا اور پھر تمام رسولوں پر ایمان کی طرف اس میں توجہ دلائی ہے۔یہ اسلام کی خوبی ہے کہ تمام رسولوں کو مانے کا حکم ہے۔یہاں یہ نہیں کہا گیا کہ تمام سابقہ رسولوں کو مانو بلکہ رسولوں پر ایمان ہے اور قرآن کریم اور آنحضرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کے آنے کا بتایا اور جو راستہ کھول دیا تو یہ راستہ کھول کر آئندہ آنے والے رسولوں کو ماننے اور ایمان لانے کا بھی اس میں حکم فرما دیا۔اب یہ ان نام نہاد مسلمان علماء کی بدقسمتی ہے جنہوں نے نہیں مانا کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق مبعوث ہونے والے انبیاء کی بعثت کے طریق کو چھوڑ کر اس طریق پر مسیح موعود کے نازل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق نہیں ہے۔قرآن پر ایمان کا دعویٰ کرنے کے باوجود قرآن کی اس بات کا رڈ کر رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے اور کوئی شخص جو اس دنیا میں آئے کبھی زندہ آسمان پر نہیں جاتا، بلکہ اس کی روح جاتی ہے۔427