نُورِ ہدایت

by Other Authors

Page 383 of 1207

نُورِ ہدایت — Page 383

جس کے ذریعہ دیکھنے والے ٹور کی مثال مفردات نے سورۃ یونس کی آیت نمبر 6 کی دی ہے۔جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَا وَالْقَمَرَ نُورًا (يونس) یعنی وہی ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور کیا ہے۔یہاں بعض کو شاید یہ الجھن ہو کہ سورج کے لئے مضیاء اور چاند کے لئے نور کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اس لئے ضیاء جو ہے وہ زیادہ روشن چیز ہے اور نور کم روشن ہے۔اہل لغت بھی یہی لکھتے ہیں کہ ضیاء روشن چیز کو کہتے ہیں اور نور کم روشن کو۔ضیاء نور کے مقابلے پر زیادہ طاقتور ہے۔اپنی ذات میں جو روشنی ہوتی ہے اس کو ضیاء اور ضو ء کہتے ہیں اور نور کا لفظ عمومی طور پر اس وقت بولا جاتا ہے یا استعمال کیا جاتا ہے جب کسی غیر سے روشنی لیتی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں فرمایا کہ اللهُ نُورُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ تو اس کا کیا مطلب ہے اس کا مفسرین نے یہ جواب دیا ہے کہ نور کے اور بھی کئی معنی ہیں اور یہ نور جو ہے یہ ضیاء کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَسِرَاجًا منيرا (الاحزاب (47) کہ وہ روشن سورج ہے۔یعنی آپ کے ٹور سے دوسرے لوگ روشن ہوں گے جبکہ آپ کا نور بھی اللہ تعالیٰ کے نور سے ہے۔نیز لغت والے یہ بھی لکھتے ہیں کہ ٹور ضیاء کی روشنی کو بھی کہتے ہیں، ضیاء کی شعاع کو بھی کہتے ہیں یعنی جو چیز اپنی ذات میں روشن ہے اس روشنی کے انعکاس کو بھی نور کہتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کے نور کی شعاعوں کا جو انعکاس ہے یا خدا تعالیٰ کا جو انعکاس ہے یہی ہمیں مادی اور روحانی زندگی میں نظر آتا ہے۔کائنات کا حقیقی ادراک اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ نُور سے اُسے دیکھیں۔کیونکہ ٹور ہر اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے دوسری چیزیں نظر آنے لگیں۔پس خدا تعالیٰ کی ذات میں ڈوب کر ظاہری آنکھ سے بھی اس ٹور کا حقیقی رنگ میں ادراک ہوسکتا ہے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے لئے ظاہر کیا ہے اور انسانوں کے لئے مسخر کیا ہے۔سورج بھی اور چاند بھی اور کائنات کی ہر چیز بھی اسی طرح حقیقی طور پر نظر آ سکتی ہے جب 383